کتاب عشق میں سارا بیاں وصال کا ہے

کتاب عشق میں سارا بیاں وصال کا ہے
میں زندہ ہجر میں ہوں اور گماں وصال کا ہے


ہم ایسے فرق تعلق سے خود بھی حیراں ہیں
زمیں ہے ہجر کی اور آسماں وصال کا ہے


عجب تضاد کے پیش نظر ہوں ہستی میں
ہے دھوپ ہجر کی اور سائباں وصال کا ہے


ہے جاگنے پہ ہی پڑتا تمام چابک ہجر
ہوں آنکھیں بند تو سارا سماں وصال کا ہے


چلو یہ ہجر سہی کچھ تو دسترس میں رہے
جو وقت آتا ہے وہ بھی کہاں وصال کا ہے


غرض سے چپ ہیں مگر اہل دل سمجھتے ہیں
کہ لفظ ہجر سے روشن بیاں وصال کا ہے


کشید کرتے ہیں عرفان اپنے ہجر سے طورؔ
یہ خطہ چھوڑ کے سارا جہاں وصال کا ہے