Krishna Kumar Toor

کرشن کمار طورؔ

ممتاز جدید شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the prominent modern poets, recipient of Sahitya Academy award.

کرشن کمار طورؔ کی غزل

    میں آسمان میں پہلا ستارہ دیکھتے ہی

    میں آسمان میں پہلا ستارہ دیکھتے ہی ہوں اپنے آپ سے خارج خسارہ دیکھتے ہی تھا رونقوں میں گھرا جب تھا بیچ دریا کے اب آب دیدہ ہوں خالی کنارہ دیکھتے ہی نشاط جذب سے میں اپنے ہوش کھو بیٹھا جنوں کا سر میں بہت آشکارہ دیکھتے ہی ہے کیسا درد جو دل کے ہوا ہے دامن گیر نظر پہ بار ہوں رنگ ...

    مزید پڑھیے

    اس نے جو درد کا انبار لگایا ہوا ہے

    اس نے جو درد کا انبار لگایا ہوا ہے ہم نے بھی دل سر بازار لگایا ہوا ہے ایک آفت کی طرح ہم نے اب اس سینے سے تھا لگانا جسے سرکار لگایا ہوا ہے پیار کی تازہ ہوا آئے کہاں سے ہم نے خود کو اک صورت دیوار لگایا ہوا ہے کیا کسی بت کی محبت میں گرفتار ہوئے کیوں بھلا سینے سے زنار لگایا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    بھید دنیا کے کھولتا ہوں میں

    بھید دنیا کے کھولتا ہوں میں سب سنیں اب کہ بولتا ہوں میں آسماں ایک جست تازہ دمی دھوپ بھر پر ٹٹولتا ہوں میں حرف مصرف ہے لمحۂ گزراں شعلۂ کن ٹٹولتا ہوں میں وسعت وجد ہے مری پہچان رنگ ہر شے میں گھولتا ہوں میں صد شفق سمت لمحۂ سیال بیچ میں خود کو تولتا ہوں میں گوہر آب دار ہو کے ...

    مزید پڑھیے

    کیا بولوں کیسی ارزانی میری تھی

    کیا بولوں کیسی ارزانی میری تھی وہ سورج تھا اور پیشانی میری تھی اک تصویر نہاں تھی وقت کے پردے میں غور سے جو میں نے پہچانی میری تھی جتنے بھی موجود تھے منظر اس کے تھے اور آنکھوں کی سب حیرانی میری تھی اب دیکھوں تو نا ممکن سا لگتا ہے یہ دنیا اک دن دیوانی میری تھی فرق ہی کیا تھا سر ...

    مزید پڑھیے

    روشن کر کے اس کے نام کی لو دل میں

    روشن کر کے اس کے نام کی لو دل میں میں نے بھی اس کو ڈال دیا اک مشکل میں یہ آوازیں میری ہی پیدا کردہ ہیں گونج رہا ہوں میں دنیا کے ہر دل میں میں بھی آنکھ کی اوٹ میں چھپ کے بیٹھا تھا وہ بھی ڈھونڈ رہا تھا مجھ کو محفل میں چوم رہا ہوں اس کے اک اک وار کو میں جانے میں نے دیکھ لیا کیا قاتل ...

    مزید پڑھیے

    اس کی چاہ میں اب کے یہ بھی کمال ہوا

    اس کی چاہ میں اب کے یہ بھی کمال ہوا خود سے میں باہر آیا تو ایک مثال ہوا درد کی بیڑی شام سے ہی بج اٹھتی ہے میں تو اس کے فراق میں اور نڈھال ہوا وہ میری تعریف کا اب محتاج نہیں وہ چہرہ تو خود ہی ایک مثال ہوا خود ہی چراغ اب اپنی لو سے نالاں ہے نقش یہ کیا ابھرا یہ کیسا زوال ہوا اب تو ...

    مزید پڑھیے

    مجھ میں موجود ہے جو چاک نہیں کھلتا کچھ

    مجھ میں موجود ہے جو چاک نہیں کھلتا کچھ یہ مرا دیدۂ نمناک نہیں کھلتا کچھ نقش ابھرے گا کوئی یا کہ نہیں ابھرے گا کیا ہے پوشیدہ تہ خاک نہیں کھلتا کچھ یہ تو طے ہے کہ اب اس دل کا زیاں لازم ہے وہ ہے معصوم کہ چالاک نہیں کھلتا کچھ منتظر کون سے میں عالم اسباب کا ہوں کیا ہے اب قسمت خاشاک ...

    مزید پڑھیے

    جو نہیں ہے اسی منظر میں بہت ہوتا ہے

    جو نہیں ہے اسی منظر میں بہت ہوتا ہے یہ سنا ہے تو مرے گھر میں بہت ہوتا ہے ہارنا میرا مقدر ہے یہ سب جانتے ہیں شور پھر کیوں مرے لشکر میں بہت ہوتا ہے ایسے ہی آتی نہیں عشق میں سجدہ صفتی خون کا زور قلندر میں بہت ہوتا ہے وقت سے دہر کی ہر چیز پہ ہوتا ہے اثر کم جو دکھتا ہے مقدر میں بہت ...

    مزید پڑھیے

    تمام رات پڑی تھی کہ دن نکل آیا

    تمام رات پڑی تھی کہ دن نکل آیا ابھی تو آنکھ لگی تھی کہ دن نکل آیا یقیں ہو پختہ تو پھر شب بدل بھی سکتی ہے یہ بات اس نے کہی تھی کہ دن نکل آیا یہ معجزہ بھی ہمیں پر تمام ہونا تھا وہ بس ذرا سا ہنسی تھی کہ دن نکل آیا میں دن نکلنے کا ویسے بھی منتظر تھا بہت یہ جان خواب ہوئی تھی کہ دن نکل ...

    مزید پڑھیے

    اپنے مر مٹنے کے اسباب بہت دیکھتا ہوں

    اپنے مر مٹنے کے اسباب بہت دیکھتا ہوں عشق والا ہوں ترے خواب بہت دیکھتا ہوں یہ بھی ہے ایک سبب اس مری تنہائی کا اپنے چاروں طرف احباب بہت دیکھتا ہوں اور تو اور تری یاد سے بھی ہوں غافل میں یہاں خود کو ظفر یاب بہت دیکھتا ہوں کچھ تو اس حسن میں رکھی ہے خدا نے تاثیر اور کچھ لوگوں کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4