Krishna Kumar Toor

کرشن کمار طورؔ

ممتاز جدید شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the prominent modern poets, recipient of Sahitya Academy award.

کرشن کمار طورؔ کی غزل

    بہت کہا تھا سخن وروں میں گزر نہ کرنا

    بہت کہا تھا سخن وروں میں گزر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ بات سننا مگر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ ڈوبنے کا ہے ڈر زیادہ بہت کہا تھا کہ پانیوں کا سفر نہ کرنا بہت کہا تھا کہ تم اکیلے نہ رہ سکو گے بہت کہا تھا کہ ہم کو یوں در بدر نہ کرنا بہت کہا تھا وہ تم کو پہچانتا نہیں ہے بہت کہا تھا تم اس کو ...

    مزید پڑھیے

    تھیں سبھی محرابیں روشن بام و در آباد تھے

    تھیں سبھی محرابیں روشن بام و در آباد تھے اک زمانہ تھا کہ جب یہ سارے گھر آباد تھے خاک سی اڑتی نظر آتی ہے اب ہر اک طرف وہ بھی دن تھے جب محبت کے نگر آباد تھے کیا دلوں کی صورت حالات تم سے ہم کہیں یہ مکاں برباد ہیں اب جس قدر آباد تھے ریت اڑتی ہے اب آنکھوں میں مگر اک وقت تھا وصل کی دنیا ...

    مزید پڑھیے

    دیتا ہے کوئی مجھے صدا باہر آ

    دیتا ہے کوئی مجھے صدا باہر آ اے مرے بدن میں قید ہوا باہر آ کب سے ہلا رہا ہوں زنجیر در شب تو ہی لے کر ہاتھوں میں دیا باہر آ کیوں بنا ہوا ہے ہدف زمانے کا گزرا ہے کیا تجھ پہ سانحہ باہر آ طاق میں کب سے سجا رہا ہوں یاد چراغ تو ہی تو ہے اک میرا آشنا باہر آ کب تک تو آسماں میں چھپ کے بیٹھے ...

    مزید پڑھیے

    ساحل سے بیچ سمندر گہرا پانی

    ساحل سے بیچ سمندر گہرا پانی گھر مٹی گھر سے باہر گہرا پانی یہ اسرار ہے ظاہر اس کے ہونے کا منظر ہو یا پس منظر گہرا پانی دل کو کیا دیکھتے ہو اے دیکھنے والو باہر خشکی اور اندر گہرا پانی ڈوب کے ہی میں شاید پار نکل جاؤں میرا کیا میرے اندر گہرا پانی وقت کب اک سی حالت رہنے دیتا ہے ہو ...

    مزید پڑھیے

    ہوا ہے زیر زمیں آسماں عجیب سا کچھ

    ہوا ہے زیر زمیں آسماں عجیب سا کچھ میں جس میں رہتا ہوں وہ ہے مکاں عجیب سا کچھ فلک سے آتا ہے رقعہ ہمارے ہونے کا ہے اپنے ماتھے پہ روشن نشاں عجیب سا کچھ کہاں کا وصل بھلا اور کہاں کی حسرت وصل ہر ایک لمحہ ہوا بے اماں عجیب سا کچھ انا کی جس سے تھی امید وہ ہے ننگ انا جسے تھا ہونا وہی ہے ...

    مزید پڑھیے

    جب پورب میں نیل امبر پر اک کافوری پھول کھلا

    جب پورب میں نیل امبر پر اک کافوری پھول کھلا رات گزرنے کے غم میں تاروں نے ہیرا چاٹ لیا لوک پرلوک پہ پھیل رہی ہے یادوں کی چنچل خوشبو دھیان کے ٹھہرے ساگر میں کس نے پھر کنکر پھینک دیا اس کے نرم مدھر بولوں نے دل پر چھاؤنی چھائی تھی یا تپتی سوکھی دھرتی پر چھاجوں ہی مینہ برسا تھا جل ...

    مزید پڑھیے

    ایک تماشا یہ بھی جہاں میں کر جانا

    ایک تماشا یہ بھی جہاں میں کر جانا اپنے بدن سے کسی کنویں کو بھر جانا بس اک بوند لہو سے ساری فضیلت ہے ورنہ کب زندہ رکھتا ہے مر جانا اس کو ڈھونڈنے میں جب بھی رنگ بھرا ہم نے تو اس دل کو بھی اک منظر جانا اپنے سر پر خود ہی سجانا سورج کو اور اپنی پرچھائیں سے خود ہی ڈر جانا خاک کو کیوں ...

    مزید پڑھیے

    اک کا گھونٹ سمندر اک کا پیکر پیاس

    اک کا گھونٹ سمندر اک کا پیکر پیاس پانی آب حیات اور سکندر پیاس امرت بوند آسمان سے ٹپکا پانی گرم توے پر ایک پرندۂ بے پر پیاس بیچ کی ایک لکیر ہی اب فیصلہ کرے کس کے بازو پانی کس کی چادر پیاس دونوں بہر شعلۂ ذات دونوں اسیر انا دریا کے لب پر پانی دشت کے لب پر پیاس رنگ لہو سے گلگوں آب ...

    مزید پڑھیے

    بلاوا کون سا کوہ ندا میں رکھا ہے

    بلاوا کون سا کوہ ندا میں رکھا ہے چراغ ہم نے جو اپنا ہوا میں رکھا ہے وہ چاہے بخش دے ذلت کہ سرفراز کرے بس اک یقیں ہے جو ہم نے خدا میں رکھا ہے عدم وجود میں بھرتی ہے اک رگ موجود اب اور اس کے سوا کیا دعا میں رکھا ہے نہ خود شناسی اگر ہو تو کیا نشاط عشق رقم نہ ہو تو کیا حرف نوا میں رکھا ...

    مزید پڑھیے

    کیوں مجھے محسوس یہ ہوتا ہے اکثر رات بھر

    کیوں مجھے محسوس یہ ہوتا ہے اکثر رات بھر سینۂ شب پر چمکتا ہے سمندر رات بھر ایک برق زرد لہرائے تو قصہ ختم ہو کیوں ڈرائے رکھتا ہے مجھ کو مرا گھر رات بھر اب رہے گا زیست میں لمحہ بہ لمحہ اک عذاب اب کھلے گا اک فسوں منظر بہ منظر رات بھر میں ہوں کیا اور کیا مری پہچان اب اس کے بغیر میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4