میں آسمان میں پہلا ستارہ دیکھتے ہی
میں آسمان میں پہلا ستارہ دیکھتے ہی
ہوں اپنے آپ سے خارج خسارہ دیکھتے ہی
تھا رونقوں میں گھرا جب تھا بیچ دریا کے
اب آب دیدہ ہوں خالی کنارہ دیکھتے ہی
نشاط جذب سے میں اپنے ہوش کھو بیٹھا
جنوں کا سر میں بہت آشکارہ دیکھتے ہی
ہے کیسا درد جو دل کے ہوا ہے دامن گیر
نظر پہ بار ہوں رنگ نظارہ دیکھتے ہی
ابھی میں سحر کی پہلی نظر سے نکلا نہ تھا
تماشہ بن گیا اس کو دوبارہ دیکھتے ہی
بس اب یہ ہوگا کہ تم پر ہی آنچ آئے گی طورؔ
بھڑک اٹھا ہے وہ دل کا شمارہ دیکھتے ہی