تھیں سبھی محرابیں روشن بام و در آباد تھے
تھیں سبھی محرابیں روشن بام و در آباد تھے
اک زمانہ تھا کہ جب یہ سارے گھر آباد تھے
خاک سی اڑتی نظر آتی ہے اب ہر اک طرف
وہ بھی دن تھے جب محبت کے نگر آباد تھے
کیا دلوں کی صورت حالات تم سے ہم کہیں
یہ مکاں برباد ہیں اب جس قدر آباد تھے
ریت اڑتی ہے اب آنکھوں میں مگر اک وقت تھا
وصل کی دنیا کے جتنے تھے سفر آباد تھے
وہ بھی موسم تھا محبت کا بہت جاں آفریں
جب ہمارے دل یہاں شام و سحر آباد تھے
ورنہ کیوں مظہر میں آتا واقعہ معراج کا
آسمانوں سے ادھر شاید بشر آباد تھے
ایک یہ دن ہیں فلک آثار ہے طورؔ اب زمیں
ایک وہ دن تھے کہ یہ شمس و قمر آباد تھے