Krishna Kumar Sharma

کرشن کمار شرما

  • 1960

کرشن کمار شرما کی غزل

    مٹی انگوٹھی سونے کی

    مٹی انگوٹھی سونے کی عادت چھوٹی سونے کی رام سے مل کر راون نے لنکا لوٹی سونے کی خوشبو لے کر پھول کھلا قسمت پھوٹی سونے کی آیا سپنا مٹی کا نندیا ٹوٹی سونے کی آئے کام مصیبت میں بات انوٹھی سونے کی چلو کہ اس پر ٹنگ جائیں وہ ہے کھونٹی سونے کی اکثر چاندی کھاتی ہے قسمیں جھوٹی سونے ...

    مزید پڑھیے

    اپنی لاج سنبھالے ہیں بھئی

    اپنی لاج سنبھالے ہیں بھئی ہم تو لڑکی والے ہیں بھئی صبح کمائیں شام پکائیں اپنے ٹھاٹھ نرالے ہیں بھئی مجبوری ہے کون بتائے سب کے منہ پر تالے ہیں بھئی پھکڑ فطرت کے مالک ہیں کل کو کل پر ٹالے ہیں بھئی دل ہیں برچھی تیر کٹاری چہرے بھولے بھالے ہیں بھئی ان کو یہ مضمون لکھا ہے ایک کبوتر ...

    مزید پڑھیے

    نیند میں جیسے بچہ ہنس دے

    نیند میں جیسے بچہ ہنس دے کاش کہ ایسا دنیا ہنس دے روتے روتے سویا ہوں پر خواب میں کوئی چہرہ ہنس دے دور نہیں وہ وقت کی آندھی تجھ پر کوئی تنکا ہنس دے ہوا جلے پر نمک چھڑکنا صحرا پر جب دریا ہنس دے تجھ کو آتا دیکھ خوشی سے گھر کا آنگن پروا ہنس دے کبھی کبھی تو تنہائی میں خاموشی سناٹا ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی ہوتا ہوں میں اکیلے میں

    جب بھی ہوتا ہوں میں اکیلے میں خود کو کھوتا ہوں میں اکیلے میں فصل اگاتا ہوں یوں ہنسی کی میں اشک بوتا ہوں میں اکیلے میں جو رٹے نام بس تمہارا ہی ایسا طوطا ہوں میں اکیلے میں ان کی یادوں کا اپنی آہوں کا بوجھ ڈھوتا ہوں میں اکیلے میں رام مندر اور بابری مسجد دونوں ہوتا ہوں میں اکیلے ...

    مزید پڑھیے