نیند میں جیسے بچہ ہنس دے

نیند میں جیسے بچہ ہنس دے
کاش کہ ایسا دنیا ہنس دے


روتے روتے سویا ہوں پر
خواب میں کوئی چہرہ ہنس دے


دور نہیں وہ وقت کی آندھی
تجھ پر کوئی تنکا ہنس دے


ہوا جلے پر نمک چھڑکنا
صحرا پر جب دریا ہنس دے


تجھ کو آتا دیکھ خوشی سے
گھر کا آنگن پروا ہنس دے


کبھی کبھی تو تنہائی میں
خاموشی سناٹا ہنس دے


غم کا کیا ہے اور ملیں گے
چھوڑ اداسی اچھا ہنس دے