Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی نظم

    کتے اور خرگوش

    دو خرگوش تھے پیارے پیارے اک موتی اک ہیرا موتی کالے کانوں والا ہیرا بھورا بھورا دو کتوں نے دیکھا ان کو چین سے یوں جو بیٹھا منہ میں ایک کے پانی آیا دوسرا فوراً لپکا چین سے کونے میں بیٹھے تھے سوچتے تھے کہ جائیں سامنے کے کھیتوں سے دو اک گاجریں توڑ کے لائیں بھاگے سرپٹ دیکھ کے ...

    مزید پڑھیے

    جلا وطنی

    آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہ پپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہے ہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تک اکیلا ہی چلتا ہے سورج اداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطر بلاتا ہے لیکن نگاہیں ملانے کا ہر حوصلہ ہر بدن میں فقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہے اب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے ...

    مزید پڑھیے

    خداؤں سے کہہ دو

    جس دن مجھے موت آئے اس دن بارش کی وہ جھڑی لگے جسے تھمنا نہ آتا ہو لوگ بارش اور آنسوؤں میں تمیز نہ کر سکیں جس دن مجھے موت آئے اتنے پھول زمین پر کھلیں کہ کسی اور چیز پر نظر نہ ٹھہر سکے چراغوں کی لویں دیے چھوڑ کر میرے ساتھ ساتھ چلیں باتیں کرتی ہوئی مسکراتی ہوئی جس دن مجھے موت آئے اس ...

    مزید پڑھیے

    گھاس تو مجھ جیسی ہے

    گھاس بھی مجھ جیسی ہے پاؤں تلے بچھ کر ہی زندگی کی مراد پاتی ہے مگر یہ بھیگ کر کس بات گواہی بنتی ہے شرمساری کی آنچ کی کہ جذبے کی حدت کی گھاس بھی مجھ جیسی ہے ذرا سر اٹھانے کے قابل ہو تو کاٹنے والی مشین اسے مخمل بنانے کا سودا لیے ہموار کرتی رہتی ہے عورت کو بھی ہموار کرنے کے لیے تم کیسے ...

    مزید پڑھیے

    کیتھارسیس

    میں ترے خوابوں کی دوست تھی یاد ہے تو نے میری بانہوں میں باتوں کے گجرے پہنائے تھے تو نے میرا جھوٹا پانی پی کے میرے ہونٹ سنہرے چمکائے تھے تیرے گھر میں آئی تھی حرف بھی وصل کے پیرائے تھے کچے پیالے پہ منہ رکھ کے میں نے پیاس کی خوشبو سونگھی اوس نے دید سے رشتہ باندھا رس نے رنگ کی چولی ...

    مزید پڑھیے

    گلاس لینڈسکیپ

    ابھی سردی پوروں کی پہچان کے موسم میں ہے اس سے پہلے کہ برف میرے دروازے کے آگے دیوار بن جائے تم قہوے کی پیالی سے اٹھتی مہکتی بھاپ کی طرح میری پہچان کر لو میں ابھی تک سبز ہوں منہ بند الائچی کی طرح میں نے آج تمہاری یاد کے کبوتر کو اپنے ذہن کے کابک سے آزاد کیا تو مجھے اندر کی پتاور ...

    مزید پڑھیے

    آخری فیصلہ

    کانٹوں کی چٹان پہ کھڑی میں آنکھوں کی سوئیاں نکال رہی ہوں یہ علاقہ کس سلطنت میں شامل ہے ملوکیت میری زبان پہ کانٹے حلق میں پھندا آنکھیں باہر شاہ بلوط کے لمبے درختوں جیسے لمبے پوت بہت ہو گئے ہیں جنگل میں درخت زیادہ ہو جائیں تو آگ لگا کر درخت کم کر دیے جاتے ہیں باہر نکلی ہوئی آنکھ سے ...

    مزید پڑھیے

    کشید شب

    آج کی رات بھی پھر خواب جگائیں گے مجھے پھر وہ کروٹ سے خیالوں کے تسلسل کو مٹانے کی کشید کوشش جسم کے درد کو سلوٹ میں سمو کے وہی بستر پہ تڑپتے ہوئے مہجورئ جاناں کو کبھی آہ کبھی سانس کی گہرائی میں شل کرنے کی سعی ناکام یہ بھی معلوم ہے یہ نیم رسی فہم کی دیوار تلک جست یہ سائے کی تصویر کسی ...

    مزید پڑھیے

    سونے سے پہلے ایک خیال

    مجھے نومبر کی دھوپ کی طرح مت چاہو کہ اس میں ڈوبو تو تمازت میں نہا جاؤ اور اس سے الگ ہو تو ٹھنڈک کو پور پور میں اترتا دیکھو مجھے ساون کے بادل کی طرح چاہو کہ اس کا سایہ بہت گہرا نس نس میں پیاس بجھانے والا مگر اس کا وجود پل میں ہوا پل میں پانی کا ڈھیر مجھے شام کی شفق کی طرح مت چاہو کہ ...

    مزید پڑھیے

    روایت نہ ٹوٹے

    ہم روایات کی کہنہ صدیوں کے پربت تلے وہ گھنے سبز جنگل ہیں جو بے پناہ شاخ در شاخ تابندگی تازگی کے تموج سے سنولا کے خود ہی جھلس جائیں ایسے جلیں ایسے جلیں کہ فقط دور تک کوئلہ کوئلہ ہی دکھائی دے اور تازگی کی نمو خاک سے بھی گواہی نہ دے وہ مقدر کے اچھے کہ جن کو جلاپے کی مدت گزرنے پہ ان ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3