ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا
ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا ارمان تڑپتے ہیں کہ قاتل نہیں ملتا ہو عقل تو ہو تل کی جگہ آنکھ میں لیلی جھک قیس کی ہے صاحب محمل نہیں ملتا گل کی ترے رخسار سے رنگت نہیں ملتی نالہ سے مرے شور عنادل نہیں ملتا اپنا بھی تو ملتا نہیں دل مجھ سے پھر اے یار کس منہ سے کہوں تجھ سے ترا دل ...