Kishan Kumaar Waqaar

کشن کمار وقار

کشن کمار وقار کی غزل

    ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا

    ہے ہے کوئی دل دینے کے قابل نہیں ملتا ارمان تڑپتے ہیں کہ قاتل نہیں ملتا ہو عقل تو ہو تل کی جگہ آنکھ میں لیلی جھک قیس کی ہے صاحب محمل نہیں ملتا گل کی ترے رخسار سے رنگت نہیں ملتی نالہ سے مرے شور عنادل نہیں ملتا اپنا بھی تو ملتا نہیں دل مجھ سے پھر اے یار کس منہ سے کہوں تجھ سے ترا دل ...

    مزید پڑھیے

    جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن

    جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دن اس کو دنیا سے اٹھایا ایک دن وصل کی شب دیکھتے اس ماہ کو سال میں بھی وہ نہ آیا ایک دن صبح نومیدی ہماری شب کی ہے عمر گزری وہ نہ آیا ایک دن کام میں میرے ہمیشہ یار نے ایک ساعت کا لگایا ایک دن مثل برق اک شب ہنسایا آپ نے ابر کی صورت رلایا ایک دن یاد زلف و ...

    مزید پڑھیے

    دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گا

    دیکھ کر مے منہ میں پانی شیخ کے بھر آئے گا چیز اچھی دیکھے گا مفلس کا جی للچائے گا شعلہ بھڑکا کر رہے گی یہ دبی آگ ایک دن گر وہ ٹھنڈی گرمیوں سے دل مرا سلگائے گا کاکل پرپیچ سے حاصل ہوا یہ مو بہ مو ہاتھ کو جو کھینچ لے گا پاؤں کو پھیلائے گا ضبط گریہ سے ہے نقصاں قصر تن کے واسطے بیٹھ ہی ...

    مزید پڑھیے

    خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلط

    خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلط خط غلط انشا غلط املا غلط رو دیا سچے نے جھوٹے کے حضور جو صحیح در است تھا ٹھہرا غلط دیر کی لی راہ مسجد چھوڑ کر عاشق بت کر گیا رستہ غلط بات پیشانی کی پیش آتی ہے یار ہو نہ قسمت کا کبھی لکھا غلط خط ہے طوطی آئنہ ہے روئے یار اے وقارؔ اس میں نہیں اصلا غلط

    مزید پڑھیے

    مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہے

    مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہے جال کیا اے جان جاں جنجال ہے آؤ حاضر سر پئے پامال ہے جان لب پر بہر استقبال ہے خاک ہو سرسبز تخم عاشقی ہے زمیں آس آسمان غربال ہے حسن یوسف کا بکا بازار میں عشق کا راعیل کے اقبال ہے جو مرے لب پر ہوا حسرت کا خون وہ بخار شوق کا تبخال ہے بولتا ہے آج کل طوطی ...

    مزید پڑھیے

    الفت‌ شیریں کو بھاری سل سمجھ

    الفت‌ شیریں کو بھاری سل سمجھ سہل کو اے کوہ کن مشکل سمجھ گرد باد دشت اے مجنوں نہ ہو تل کو لیلہ چشم کو محمل سمجھ جان نبض راہ دشت نیستی تیغ ابرو کا مجھے بسمل سمجھ دل کو بیت اللہ کہتا ہے جہاں اس کو اے بت منزلت منزل سمجھ ہے جو شب بیدار تیری یاد میں اس فرامش کار کو غافل سمجھ خون دل ...

    مزید پڑھیے

    کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتا

    کبھی بالوں کو سلجھایا تو ہوتا مجھے شانے سے الجھایا تو ہوتا بگڑ جاتا ابھی منہ آئنے کا تمہارے روبرو آیا تو ہوتا گل یوسف زلیخائی دکھاتا چمن میں وہ عزیز آیا تو ہوتا زبان بوسۂ لب دے کر اے یار نہ دیدے دل کو للچایا تو ہوتا مجھے وارفتگی جانے نہ دیتی ولیکن تم نے بلوایا تو ہوتا وہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4