Kishan Kumaar Waqaar

کشن کمار وقار

کشن کمار وقار کی غزل

    گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوں

    گاہ بسمل ہوں گہے تکبیر ہوں اپنی میں تدبیر کا تقدیر ہوں میرے دم سے ہے جنوں کی آبرو پاسبان خانۂ زنجیر ہوں بے رخی پر ہے کماں تقدیر کی گو سراپا ناوک تدبیر ہوں دشمنوں کے ہوں ضرر کا سر نوشت دوستوں کے نفع کی تقریر ہوں ہے خرابی رخنہ انداز بنا قصر بربادی کا میں تعمیر ہوں قد تواضع میں ...

    مزید پڑھیے

    خط کی رخسار پر سیاہی ہے

    خط کی رخسار پر سیاہی ہے چشم خوابیدہ خوش نگاہی ہے عشق کا ہے غبار نالہ‌ عروج آسماں اوج‌ تخت شاہی ہے کیوں نہ ہو عندلیب گرم فغاں بوئے گل ہر طرف کو راہی ہے اشک حسرت ہے آج طوفاں خیز کشتیٔ چشم کی تباہی ہے ہوں گرفتار آپ اپنا میں حلقۂ فلس دام ماہی ہے چشم جاناں کا رعب ابرو ہے تیغ سے ...

    مزید پڑھیے

    عشق ہے اس زلف کا سرتاج آج

    عشق ہے اس زلف کا سرتاج آج ہے رسول‌ حسن کی معراج آج نوک مژگاں پر نہیں ہے لخت دل دار پر کھینچا گیا حلاج آج ترک چشم یار کے تیور ہیں اور خرمن طاقت کا ہے تاراج آج تیغ ابرو کل پڑی دل پر مرے تیر مژگاں کا ہوا آماج آج چوسے ہیں اس کے مسی آلودہ لب میں نے نیلم کا کیا پکھراج آج وصل کی مرضی ...

    مزید پڑھیے

    تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹ

    تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹ وہ بوسہ دے کہ ہو جس کی صدا چٹ منڈا کر خط‌ رخ اس مہ لقا نے کیا ہے آئنے کا گھر صفا چٹ مجھی کو گالیاں دیتے رہے وہ مگر لیتا رہا بوسے چٹا چٹ تمہاری زلف کا باندھا نہ چھوٹا ڈسا کالے نے جس کو وہ موا چٹ مسلم مرغ دل ہے میہمان غم کرے جلد اے خدا وہ یہ غذا چٹ وقارؔ ...

    مزید پڑھیے

    رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دن

    رہتا ہے میرے دل میں ترا نور رات دن اک شعلہ برق زن ہے سر طور رات دن مانند مہر و ماہ حسینوں میں ہے فراق کیوں ایک ایک سے نہ رہے دور رات دن ہم نے ملائی آنکھ یہ منہ ہے سحاب کا جاری ہے زخم چشم کا ناسور رات دن تیرے لیے مثال مہ‌ و مہر و نجم و چرخ پھرتے ہیں لنج و لنگ و کر و کور رات دن کچھ ...

    مزید پڑھیے

    قیس وہ ناتوان صحرا ہے

    قیس وہ ناتوان صحرا ہے کالبد نیستان صحرا ہے آتش عشق سے ہے سینہ گرم جلوۂ برق جان صحرا ہے تیرے دیوانہ کے لیے زنجیر موج رنگ روان صحرا ہے غم میں کس شعلہ رو کے دود آہ آتش دودمان صحرا ہے ہے جو فرہاد دعوتیٔ کوہ قیس بھی میہمان‌ صحرا ہے حیف پیک اپنا رہ غلط کردہ تازہ چشم روان صحرا ...

    مزید پڑھیے

    سوز سے ساز کیا چاہئے اب

    سوز سے ساز کیا چاہئے اب نے سے آواز کیا چاہئے اب کھا کے تیر نگہ ناز اس کو قدر انداز کیا چاہئے اب جس میں جی جسم میں آئے اے جاں ہاں وہ اعجاز کیا چاہئے اب دل میں آتا ہے ترے غم کو یار محرم راز کیا چاہئے اب کان تک اس کے تو پہنچے یکبار ایسی آواز کیا چاہئے اب حسن کا وصف ترے صورت خط خامہ ...

    مزید پڑھیے

    سوز پروانہ نور دین شمع

    سوز پروانہ نور دین شمع تار زنار دل نشین شمع قطرۂ خون زخم پروانہ قشقۂ تازۂ جبین شمع تم بھی دو ایک بوسہ بہر خدا کہ ہے گلگیر بوسہ چین شمع دانۂ عشق بو رہا ہے پتنگ سوختہ گرچہ ہے زمین شمع میری عرض حیات کا ہے طول نفس تنگ واپسین شمع آہ پروانہ کا پریشاں دود بن گیا زلف عنبرین ...

    مزید پڑھیے

    عارض سے ترے بہار مقصود

    عارض سے ترے بہار مقصود ہے خط سے بنقشہ زار مقصود اڑ اڑ کے غبار عاشق آیا کوچہ میں جو تھا مزار مقصود کعبہ سے غزال کودتا آئے ہو ان کا اگر شکار مقصود گیسو سے غرض ہے خاص کر لیل رخسار سے ہے نہار مقصود نرگس ہے چمن کی دیدۂ شوق ہے آپ کا انتظار مقصود دل کی نہ کلی شگفتہ ہوگی گل سے نہ رکھے ...

    مزید پڑھیے

    عاشقی میں ہے جان کا کھٹکا

    عاشقی میں ہے جان کا کھٹکا اور بھی کچھ برا بھلا کھٹکا یار صیاد باغباں کا ہوا یہ نیا اور اک بندھا کھٹکا کان آہٹ کی راہ سے نہ ہٹے دل میں تھا کس کے آنے کا کھٹکا وہی کاوش مژہ نے کی آخر جس کا اول سے دل میں تھا کھٹکا بلبل پاک بیں ہے عاشق گل باغباں تو نہ کھٹکھٹا کھٹکا بے ترے یار سیر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4