Kishan Kumaar Waqaar

کشن کمار وقار

کشن کمار وقار کی غزل

    عاشق گیسو‌ دوتا ہوں میں

    عاشق گیسو‌ دوتا ہوں میں آپ اپنے لیے بلا ہوں میں کیا شکایت اگر نہ جانے یار خود نہیں جانتا کہ کیا ہوں میں مثل گل ہنس کے میں کبھی نہ کھلا غنچہ ساں زیست سے خفا ہوں میں میں تو اے جان ہوں برے سے برا میرا یہ منہ کہوں بھلا ہوں میں دل ہے آئینۂ دو رو اپنا دوست دشمن سے ایک سا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    اس کی دیوار کا جو روزن ہے

    اس کی دیوار کا جو روزن ہے خور کا چشم و چراغ روشن ہے لطف مفرط سے دوست دشمن ہے بارش بیش برق خرمن ہے گوشہ گیری میں حرص افزوں ہو صبح شبنم کو فکر‌ رفتن ہے عشق میں تیرے تار تار اے شوخ جیب غنچہ کی گل کا دامن ہے شوق میں تیری تیغ کا یکسر شمع ساں تن تمام گردن ہے بحث کرتا ہے شیخ کعبہ سے جو ...

    مزید پڑھیے

    کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ

    کبھی اے اشک تر آنکھوں سے ڈھل پڑ کبھی اے آہ دل منہ سے نکل پڑ نہ اے پاۓ تصور اتنا شل پڑ کبھی تو لا مکاں سے آگے چل پڑ ہوا وہ بت نہ دو دن بھی کبھی رام جہنم میں تو اے علم و عمل پڑ وہ رقصاں بزم میں ہیں تو بھی اے دل کبھی تو وجد میں آ کر اچھل پڑ کسی دن تو کبھی اے ابر رحمت مرے بیت الحزن میں ...

    مزید پڑھیے

    وہ مژہ مارتی کٹاری ہے

    وہ مژہ مارتی کٹاری ہے چشم بددور زخم کاری ہے آنکھیں چمکا گیا وہ برق آسا دل مرا وقف بے قراری ہے قیس باد صبا ہے بو لیلیٰ شاخ گل نافہ کی سواری ہے زلف تک گو نہ پہونچا شانہ وار ہاتھ کو پر امیدواری ہے دل پہ چڑھتی نہیں کوئی تدبیر میری تقدیر وہ اتاری ہے دوستوں سے ہے ان کی عیاری اور ...

    مزید پڑھیے

    دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا

    دلوں پر یہ نقش اس نے اپنا بٹھایا کہ جو چوٹ پر صید آیا بٹھایا مثال‌ کبوتر مرے دل کو اس نے بھگایا بلایا اٹھایا بٹھایا ترے آتشیں حسن نے شمع کو شب کھپایا جلایا گلایا بٹھایا اٹھایا اسی غم نے دنیا سے پیارے کبھی تم نے ہم کو نہ تنہا بٹھایا سمجھ تیری الٹی ہے اے جان عالم کہ اپنا اٹھایا ...

    مزید پڑھیے

    کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کو

    کعبہ کو جائیں کس لیے اور کیوں کنشت کو پہونچیں یہیں سے بندگیاں سنگ و خشت کو گر حسن گندمی ترا ان کو نہ تھا پسند آدم نے چھوڑا کس لیے باغ بہشت کو ہے میرے آگے ایک گل و خار و نیک و بد اللہ نے بنایا ہے ہر خوب و زشت کو بارش ضرور چاہئے ابر‌ فریب کی شطرنج ساں جو چاہے کوئی سبز کشت کو لایا ...

    مزید پڑھیے

    باغ الفت میں گل جو خود رو ہے

    باغ الفت میں گل جو خود رو ہے خون بلبل کا رنگ ہے بو ہے عاشق جاں فدائے ابرو ہے جو مہ عید سر بہ زانو ہے فتنۂ حشر زلف‌ عمر دراز پر بلائے‌ سیاہ گیسو ہے تیری ابرو ہے تیغ اے سفاک جوہر تیغ چین ابرو ہے حسن ان کا اگر ہے سنگیں دل عشق اپنا بھی سخت بازو ہے لیں نہ شور نشور سے کروٹ وہ یہاں ...

    مزید پڑھیے

    شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچا

    شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچا کہ قد یار کا مضمون ہے باندھا اونچا ناز کی نشو و نما ہے کہ ہے جوبن کا ابھار ورنہ کیا ہے ترے سینہ پہ یہ اونچا اونچا دل مسافر ہے سفر شب کا پھر اس پر طرہ کوچۂ زلف میں ہے ہر جگہ نیچا اونچا اے ادب خار کی تعظیم ہے نیچا رہنا ہاں کہیں ہو نہ سر آبلۂ پا ...

    مزید پڑھیے

    وہ بت بول اٹھے کسی بات میں

    وہ بت بول اٹھے کسی بات میں خدا سے یہ مانگا مناجات میں ٹپکتا بہت خانۂ چشم ہے مکاں بیٹھ جاتا ہے برسات میں چمن میں ہے گلچیں کا کھٹکا لگا نہ صیاد سا ہو کہیں گھات میں وہاں وعظ کا شور مسجد میں ہے یہاں ہا و ہو ہے خرابات میں یہ دعوت عداوت ہوئی اے وقارؔ کہ ہو غیر داخل مدارات میں

    مزید پڑھیے

    میں پا شکستہ کہاں طفل‌ نے سوار کہاں

    میں پا شکستہ کہاں طفل‌ نے سوار کہاں پھر اس کی گرد کہاں اور مرا غبار کہاں تمہارے وصل سے ٹھہرے گا یہ دل بے تاب بغیر آئنہ سیماب کو قرار کہاں بہت دنوں سے ہوں آمد کا اپنی چشم براہ تمہارا لے گیا اے یار انتظار کہاں جو سرد مہری سے ٹھنڈا ہو اس کے اے مہ رو رگوں میں خون کہاں نبض میں بخار ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4