عاشق گیسو دوتا ہوں میں
عاشق گیسو دوتا ہوں میں آپ اپنے لیے بلا ہوں میں کیا شکایت اگر نہ جانے یار خود نہیں جانتا کہ کیا ہوں میں مثل گل ہنس کے میں کبھی نہ کھلا غنچہ ساں زیست سے خفا ہوں میں میں تو اے جان ہوں برے سے برا میرا یہ منہ کہوں بھلا ہوں میں دل ہے آئینۂ دو رو اپنا دوست دشمن سے ایک سا ہوں ...