Kishan Kumaar Waqaar

کشن کمار وقار

کشن کمار وقار کی غزل

    چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں

    چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں غنچۂ گل کی طرح کا ہے کو زر جمع کریں قتل کے بعد ہوا حکم کہ لاشیں اٹھ جائیں قید تفریق سے مقتولوں کے سر جمع کریں یار نے خط و کبوتر کے کئے ہیں ٹکڑے پرزے کاغذ کے کریں جمع کہ پر جمع کریں فکر میں گیسو و رخسار کے دل کی خاطر شام ہوتی ہے پریشاں جو سحر ...

    مزید پڑھیے

    گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئے

    گر عدو تقدیر ہے تدبیر رہنے دیجئے دوست کا دل میں ہمارے تیر رہنے دیجئے ہیں جو عاشق کام مزدوروں کا وہ کرتے نہیں ذمۂ فرہاد جوئے شیر رہنے دیجئے لیلیٰ و مجنوں کی اک کاغذ پہ ہوتی ہے شبیہ روبرو اس کے مری تصویر رہنے دیجئے ہے جنوں فصلی کرو زنجیر تار اشک سے طور پر میرے مری تدبیر رہنے ...

    مزید پڑھیے

    مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوں

    مبتلا ایک بت کا ہوتا ہوں آج ایمان اپنا کھوتا ہوں تیغ ابرو کے تیر عشق میں یار جان سے اپنی ہاتھ دھوتا ہوں جان لے گی یہ مفت کی بیگار بار رنج فراق ڈھوتا ہوں غوطے کھاتا ہوں بحر الفت میں حال پر اپنے آپ روتا ہوں ایک جھوٹے کے وصف دنداں میں سچے موتی سدا پروتا ہوں دل لگاتا ہوں ان کی ...

    مزید پڑھیے

    پامال خرام ناز کیجے

    پامال خرام ناز کیجے ٹھکرائیے سرفراز کیجے دل تم نے لیا زبان دے کر عاشق کا نہ فاش راز کیجے سوز تپ ہجر کا یہ ہے حکم تن شمع صفت گداز کیجے محمود ہوا ہے حسن صاحب پہلے مجھ کو ایاز کیجے ہو کوئی قضا جو بادہ خوارو بھٹی پہ ادا نماز کیجے کہتا ہے یہ ناز دل ربائی اے عاشقو جان نیاز ...

    مزید پڑھیے

    ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گے

    ہو عید یا محرم ہم غم کیا کریں گے دو روزہ دہر دوں میں ماتم کیا کریں گے مضمون درہمی کا گیسو کے باندھیں گے ہم ہر دم مزاج اپنا برہم کیا کریں گے اس حرف نا شنو کی فرقت میں چپکے بیٹھے ہم اپنے دل سے باتیں ہر دم کیا کریں گے کانوں تک اس کے پہنچے مانند زلف جب ہم سرگوشیاں سراسر باہم کیا کریں ...

    مزید پڑھیے

    قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئے

    قابو میں دل ہو تو کہیں شیدا نہ کیجئے اپنے کو اپنے ہاتھ سے رسوا نہ کیجئے دل لے کے بوسہ دیتے نہیں اور یہ کہتے ہیں اپنے پرائے میں کہیں چرچا نہ کیجئے رندان بادہ خوار میں ہے عیب سرکشی خم کس طرح سے گردن مینا نہ کیجئے عیسیٰ سے ان کی چشم‌ سخن گو یہ کہتی ہے میرے مریض عشق کو اچھا نہ ...

    مزید پڑھیے

    حسن صورت میں گرچہ بود نہیں

    حسن صورت میں گرچہ بود نہیں پر کہاں عشق کی نمود نہیں نیستی جلوہ گر ہے ہستی میں کچھ عدم کا مرے وجود نہیں ہم نے اول سے دیکھا آخر تک ذات حق کی نبود و بود نہیں تیرے حسن ملیح کے قربان کس کے ورد زباں درود نہیں میرے ساقی کے پیش ساغر چشم شیشہ کو کب سر سجود نہیں داغ سوزاں ہے جسم میں وہ ...

    مزید پڑھیے

    کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گل

    کل کہاں بچاری بلبل اور کہاں بچارا گل آج بلبل دید کر لے باغ کی نظارہ گل خالی از شر یہ چٹکنے کی صدا ہرگز نہیں صبح دم کرتا ہے اپنے کوچ کا نقارا گل غنچہ جب تک چپ رہا ہر طرح خاطر جمع تھی خندۂ‌ مفرط نے لیکن کر دیا آوارہ گل ظاہرا باطن سبک تھا کچھ گرانی آ گئی ہو گیا بلبل کی جانب سے جو ...

    مزید پڑھیے

    دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہو

    دوستو حال دل زار ذرا اس سے کہو کم نہ ہو اس میں ذرا بلکہ سوا اس سے کہو بات گڑھ کر نہ کوئی بہر خدا اس سے کہو جتنا میں منہ سے کہوں میرا کہا اس سے کہو یہ نہ کہیے گا کہ ہم زخموں پہ چھڑکیں گے نمک جس کسی نے کہ نہ چکھا ہو مزا اس سے کہو شام اندوہ کی شاید کہ سحر ہو جائے مرا دن رات کا یہ شور و ...

    مزید پڑھیے

    چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیں

    چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیں ان کو روزن سے جھانکے ہم بھی ہیں جو عدم کو وجود سے ہیں گئے گرد اس کارواں کے ہم بھی ہیں فاش پردہ کرو نہ کشتوں کا نزع میں منہ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں عشق چھوٹا بنا چکا ورنہ اک بڑے خانداں کے ہم بھی ہیں ترچھی نظروں کو سیدھا رکھیں آپ ورنہ اک ٹیڑھے بانکے ہم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4