چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں
چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریں غنچۂ گل کی طرح کا ہے کو زر جمع کریں قتل کے بعد ہوا حکم کہ لاشیں اٹھ جائیں قید تفریق سے مقتولوں کے سر جمع کریں یار نے خط و کبوتر کے کئے ہیں ٹکڑے پرزے کاغذ کے کریں جمع کہ پر جمع کریں فکر میں گیسو و رخسار کے دل کی خاطر شام ہوتی ہے پریشاں جو سحر ...