جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب
جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب وہ لوگ ہو گئے رخصت یہاں سے کب کے سب فضائے نسبت و قربت ہے گرد گرد مگر سمجھ رہے ہیں مرے دل کا حال سب کے سب وہ لوگ جن کی حمایت میں خود سے لڑتا رہا وہ لوگ ہو گئے میرے خلاف اب کے سب روش میں اوروں کے اسلاف کی روش نہ رہی سو قصے لکھے گئے میرے ہی نسب کے ...