Khwaja Razi Haidar

خواجہ رضی حیدر

ہمعصر پاکستانی شاعر

One of the most prominent contemporary Pakistani poets

خواجہ رضی حیدر کی غزل

    جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب

    جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب وہ لوگ ہو گئے رخصت یہاں سے کب کے سب فضائے نسبت و قربت ہے گرد گرد مگر سمجھ رہے ہیں مرے دل کا حال سب کے سب وہ لوگ جن کی حمایت میں خود سے لڑتا رہا وہ لوگ ہو گئے میرے خلاف اب کے سب روش میں اوروں کے اسلاف کی روش نہ رہی سو قصے لکھے گئے میرے ہی نسب کے ...

    مزید پڑھیے

    رستہ بھی تری سمت تھا گھر تیری طرف تھا

    رستہ بھی تری سمت تھا گھر تیری طرف تھا اب جا کے کھلا میرا سفر تیری طرف تھا آنگن تھا مرا اور نہ در و بام تھے میرے میں دھوپ میں تھا سایۂ در تیری طرف تھا محفل تجھے بس چھوڑ کے جانے کے لیے تھی اک میں ہی فقط خاک بسر تیری طرف تھا عجلت میں نہ کر ترک تعلق کی شکایت دل تیری طرف یاد تو کر تیری ...

    مزید پڑھیے

    قرض کیا کیا نظر پہ نکلے ہیں

    قرض کیا کیا نظر پہ نکلے ہیں جب بھی سیر و سفر پہ نکلے ہیں جنگلوں سے گزرنے والوں کے راستے میرے گھر پہ نکلے ہیں نام پوچھا ہے راہگیروں نے جب کبھی رہ گزر پہ نکلے ہیں زخم پھوٹے ہیں جا بہ جا تن پر کیا شگوفے شجر پہ نکلے ہیں کیا مصیبت ہے شہر والوں پر رکھ کے سامان سر پہ نکلے ہیں ساتھ لے ...

    مزید پڑھیے

    گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا

    گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا اور پھر یہ تذکرہ کبھی جا کر نہ گھر کیا چشم سلیقہ ساز تو خاموش ہی رہی رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا آزردگان ہجر کی وحشت عجیب ہے نکلے نہ گھر سے اور نہ آباد گھر کیا بے برگ و بار جسم تھا محروم اعتبار سرگرمئ صبا نے شجر کو شجر کیا اپنے سوا کسی کو ...

    مزید پڑھیے

    وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے

    وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے صاحب دل بھی چل پڑے تخت و کلاہ کے لیے مرے غنیم سرخرو عرصۂ صد شکست میں کوئی نوید سر خوشی میری سپاہ کے لیے اس کا ہدف بھی دیکھنا میری طرف بھی دیکھنا قتل انا کی شرط ہے اس سے نباہ کے لیے موسم گل کو کیا خبر شورش ابر و باد میں طائر دل اداس ہے شاخ پناہ کے ...

    مزید پڑھیے

    کیسی ہے عجب رات یہ کیسا ہے عجب شور

    کیسی ہے عجب رات یہ کیسا ہے عجب شور صحرا ہی نہیں گھر بھی مچاتا ہے عجب شور اک درد کی آندھی مجھے رکھتی ہے ہراساں اک آس کا جھونکا بھی اڑاتا ہے عجب شور روشن ہے کسی آنکھ میں تاریکیٔ احوال اک طاق تمنا میں دہکتا ہے عجب شور اک شخص مرے آئنۂ دل کے مقابل خاموش ہے لیکن پس چہرہ ہے عجب ...

    مزید پڑھیے

    کبھی مکاں میں کبھی رہ گزر میں رہتے تھے

    کبھی مکاں میں کبھی رہ گزر میں رہتے تھے یہ روز و شب تو ہمیشہ نظر میں رہتے تھے ہوا کی راہ میں اڑتی تھی زندگی اپنی مثال موج کبھی ہم بھنور میں رہتے تھے محبتوں میں بہت دل دھڑکتا رہتا تھا عجیب لوگ دل معتبر میں رہتے تھے ہمیں بھی شوق تھا کچھ تتلیاں پکڑنے کا تمام رنگ مگر چشم تر میں رہتے ...

    مزید پڑھیے

    حنا کے قوس قزح کے شجر کے کیا کیا رنگ

    حنا کے قوس قزح کے شجر کے کیا کیا رنگ وہ آنکھ لائی ہے زنجیر کر کے کیا کیا رنگ تجھے خبر نہیں پہلوئے موسم گل سے چھلک رہے ہیں تری چشم تر کے کیا کیا رنگ اتر رہے ہیں مری حیرتوں کے آنگن میں فراز شب سے طلوع سحر کے کیا کیا رنگ سر وصال ترے کیف و کم سے ظاہر ہیں مری نظر پہ کف کوزہ گر کے کیا ...

    مزید پڑھیے

    آخر سخن تمام کیا اس دعا کے ساتھ

    آخر سخن تمام کیا اس دعا کے ساتھ رہنا گلوں کے بیچ مہکنا ہوا کے ساتھ اک بے کنار ہجر مری روح میں مقیم اک بے پناہ خوف مری التجا کے ساتھ اک بے یقین رات مری رات کی شریک اک بے دیار شام دل نارسا کے ساتھ اک برگ خشک شاخ سے گرنے کا منتظر اور میرا جسم کانپ رہا ہے ہوا کے ساتھ صحرا میں ...

    مزید پڑھیے

    سرنگوں دل کی طرح دست دعا ہو بھی چکے

    سرنگوں دل کی طرح دست دعا ہو بھی چکے سلسلے جن کے جدا تھے وہ جدا ہو بھی چکے دشت میں آیا نہیں ناقۂ محمل بر دوش نقش کچھ صورت نقش کف پا ہو بھی چکے نخل امید رہا پھر بھی نمو سے محروم جب کہ موسم کئی آغوش کشا ہو بھی چکے ایک بے نام سی حسرت ہے بدن میں باقی جس قدر قرض تھے شب کے وہ ادا ہو بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2