وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے

وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے
صاحب دل بھی چل پڑے تخت و کلاہ کے لیے


مرے غنیم سرخرو عرصۂ صد شکست میں
کوئی نوید سر خوشی میری سپاہ کے لیے


اس کا ہدف بھی دیکھنا میری طرف بھی دیکھنا
قتل انا کی شرط ہے اس سے نباہ کے لیے


موسم گل کو کیا خبر شورش ابر و باد میں
طائر دل اداس ہے شاخ پناہ کے لیے


ایک نوائے آتشیں حلقہ بہ حلقہ جسم میں
پھر ہوئی ہے تازہ دم تازہ گناہ کے لیے


کہتا تھا کوئی شمع رخ دیکھ مرے چراغ شب
کوئی کرن بچا کے رکھ روز سیاہ کے لیے


اک شب ماہ کے لیے دل ہے لہو لہو رضیؔ
آنکھ ستارہ کیش ہے اک شب ماہ کے لیے