Khwaja Razi Haidar

خواجہ رضی حیدر

ہمعصر پاکستانی شاعر

One of the most prominent contemporary Pakistani poets

خواجہ رضی حیدر کی غزل

    محبت ایک جیسی ہے وفائیں ایک جیسی ہیں

    محبت ایک جیسی ہے وفائیں ایک جیسی ہیں یہاں موسم بدلنے پر ہوائیں ایک جیسی ہیں عجب شہر سخن آباد ہے میری سماعت میں عجب شہر خموشاں ہے صدائیں ایک جیسی ہیں تری آنکھوں میں آوازیں مرے ہونٹوں پہ سناٹا سفر کی داستانیں کیا سنائیں ایک جیسی ہیں سنا ہے اس طرف بھی شام کو لہجہ مہکتا ہے خفا ...

    مزید پڑھیے

    چراغ بزم تری منصبی ہے کتنی دیر

    چراغ بزم تری منصبی ہے کتنی دیر شرر نژاد ہے تو زندگی ہے کتنی دیر ہوائے دہر بھی ٹھہری ہے فرصتوں کی حریف ترے خیال کی مہلت ملی ہے کتنی دیر حریم ناز سے نکلی تو تیرے جسم کی بات زبان خلق خدا پر رہی ہے کتنی دیر اجاڑ دیں گے یہ موسم کے گرم و سرد تجھے مثال سرو یہ خوش قامتی ہے کتنی دیر سواد ...

    مزید پڑھیے

    پرانی شام نئے آنگنوں کو روتی ہے

    پرانی شام نئے آنگنوں کو روتی ہے کہیں چراغ کہیں رت جگوں کو روتی ہے کہیں یہ حال کہ ہے فاصلہ جواز سفر کہیں یہ حال تھکن فاصلوں کو روتی ہے یہ شاخ دل تھی ہرے موسموں کی دل دادہ سو دشت ہجر میں تازہ رتوں کو روتی ہے وہ آنکھ جس نے کبھی حیرتیں عطا کی تھیں وہ آنکھ آج مری وحشتوں کو روتی ہے یہ ...

    مزید پڑھیے

    دکھا کر آئنے میں اپنا چہرہ کھو گئے ہیں

    دکھا کر آئنے میں اپنا چہرہ کھو گئے ہیں یہ دنیا بھی تماشا تھی تماشا ہو گئے ہیں مسافر ہیں سفر میں بود و باش اپنی یہی ہے جہاں پر کوئی سایہ مل گیا ہے سو گئے ہیں بہ ظاہر ایک صحرا ہیں مگر ایسا نہیں ہے ہماری خاک کو کتنے ہی دریا رو گئے ہیں وہ موسم اور منظر جن سے ہم تم خوش نظر تھے وہ موسم ...

    مزید پڑھیے

    ایسا کر سکتے تھے کیا کوئی گماں تم اور میں

    ایسا کر سکتے تھے کیا کوئی گماں تم اور میں ایسے تنہا نظر آئیں گے یہاں تم اور میں بزم آراستہ ہوگی تو نمایاں ہوں گے کسی تنہائی میں شاید ہیں نہاں تم اور میں رہ گزر ختم ہوئی جاتی ہے آگے جا کر چھوڑ آئے ہیں کہاں اپنا نشاں تم اور میں جھلملاتی ہے کہیں پر کسی امکان کی لو اسی امکان کی جانب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2