Khwaja Razi Haidar

خواجہ رضی حیدر

ہمعصر پاکستانی شاعر

One of the most prominent contemporary Pakistani poets

خواجہ رضی حیدر کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب

    جو معترف تھے مرے شجرۂ نسب کے سب وہ لوگ ہو گئے رخصت یہاں سے کب کے سب فضائے نسبت و قربت ہے گرد گرد مگر سمجھ رہے ہیں مرے دل کا حال سب کے سب وہ لوگ جن کی حمایت میں خود سے لڑتا رہا وہ لوگ ہو گئے میرے خلاف اب کے سب روش میں اوروں کے اسلاف کی روش نہ رہی سو قصے لکھے گئے میرے ہی نسب کے ...

    مزید پڑھیے

    رستہ بھی تری سمت تھا گھر تیری طرف تھا

    رستہ بھی تری سمت تھا گھر تیری طرف تھا اب جا کے کھلا میرا سفر تیری طرف تھا آنگن تھا مرا اور نہ در و بام تھے میرے میں دھوپ میں تھا سایۂ در تیری طرف تھا محفل تجھے بس چھوڑ کے جانے کے لیے تھی اک میں ہی فقط خاک بسر تیری طرف تھا عجلت میں نہ کر ترک تعلق کی شکایت دل تیری طرف یاد تو کر تیری ...

    مزید پڑھیے

    قرض کیا کیا نظر پہ نکلے ہیں

    قرض کیا کیا نظر پہ نکلے ہیں جب بھی سیر و سفر پہ نکلے ہیں جنگلوں سے گزرنے والوں کے راستے میرے گھر پہ نکلے ہیں نام پوچھا ہے راہگیروں نے جب کبھی رہ گزر پہ نکلے ہیں زخم پھوٹے ہیں جا بہ جا تن پر کیا شگوفے شجر پہ نکلے ہیں کیا مصیبت ہے شہر والوں پر رکھ کے سامان سر پہ نکلے ہیں ساتھ لے ...

    مزید پڑھیے

    گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا

    گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا اور پھر یہ تذکرہ کبھی جا کر نہ گھر کیا چشم سلیقہ ساز تو خاموش ہی رہی رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا آزردگان ہجر کی وحشت عجیب ہے نکلے نہ گھر سے اور نہ آباد گھر کیا بے برگ و بار جسم تھا محروم اعتبار سرگرمئ صبا نے شجر کو شجر کیا اپنے سوا کسی کو ...

    مزید پڑھیے

    وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے

    وقت عجیب آ گیا منصب و جاہ کے لیے صاحب دل بھی چل پڑے تخت و کلاہ کے لیے مرے غنیم سرخرو عرصۂ صد شکست میں کوئی نوید سر خوشی میری سپاہ کے لیے اس کا ہدف بھی دیکھنا میری طرف بھی دیکھنا قتل انا کی شرط ہے اس سے نباہ کے لیے موسم گل کو کیا خبر شورش ابر و باد میں طائر دل اداس ہے شاخ پناہ کے ...

    مزید پڑھیے

تمام