Khwaja Lateef Ahmad Jareeh

خواجہ لطیف احمد جریح

  • 1885 - 1941

خواجہ لطیف احمد جریح کی غزل

    تا بہ کے تیر پہ او تیر لگانے والے

    تا بہ کے تیر پہ او تیر لگانے والے دیکھ مر جائیں نہ یہ ناز اٹھانے والے جان دے دوں گا کہا میں نے تو وہ کہتے ہیں ایسے دیکھے ہیں بہت جان سے جانے والے جس طرح اپنی بسر ہوتی ہے ہو جاتی ہے خوش رہیں شاد رہیں دل کے جلانے والے جذب دل چاہے ہے الفت میں اثر ہو صاحب بن بلائے ہی چلے آتے ہیں آنے ...

    مزید پڑھیے

    حال دل لاکھ ترا ان کو جتا دیتے ہیں

    حال دل لاکھ ترا ان کو جتا دیتے ہیں وہ مگر بات کو باتوں میں اڑا دیتے ہیں لائق نذر نہیں اور تو کچھ اپنے پاس ایک دل ہے سو تمہیں نام خدا دیتے ہیں لاکھ نفرت کریں وہ ہم سے عداوت رکھیں خوش رہیں شاد رہیں ان کو دعا دیتے ہیں بہر تسکیں کبھی احباب نے اتنا نہ کہا کیوں پریشاں ہو جریحؔ ان کو ...

    مزید پڑھیے

    حرص و ہوا کے ہیں سب بندے کچھ بھی خدا سے کام نہیں

    حرص و ہوا کے ہیں سب بندے کچھ بھی خدا سے کام نہیں تف ہے ایسے جینے پر ہے جس کا نیک انجام نہیں میں نے ہی پہلے دیکھا تھا میں ہی گرا تھا غش کھا کر میں ہی ملزم میں ہی مجرم آپ پہ کچھ الزام نہیں حالت نزع مت پوچھو تم سکتہ کا سا عالم ہے اب کوئی دم کا ہے مہماں صبح ہوئی تو شام نہیں حالت کیا ہے ...

    مزید پڑھیے

    کس بے وفا سے حال کہا اضطراب کا

    کس بے وفا سے حال کہا اضطراب کا خانہ خراب اس دل خانہ خراب کا قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں منشا یہ ہے جواب نہ آئے جواب کا سن لو گے کوئی دن میں کہ کمھلا گیا یہ پھول مکھڑا تھا چاند سا جو عروس شباب کا قاصد کے دل میں تھا کہ زبانی بھی کچھ کہے حاضر مگر مزاج نہ پایا جناب کا تقصیر بھی ...

    مزید پڑھیے