حال دل لاکھ ترا ان کو جتا دیتے ہیں
حال دل لاکھ ترا ان کو جتا دیتے ہیں
وہ مگر بات کو باتوں میں اڑا دیتے ہیں
لائق نذر نہیں اور تو کچھ اپنے پاس
ایک دل ہے سو تمہیں نام خدا دیتے ہیں
لاکھ نفرت کریں وہ ہم سے عداوت رکھیں
خوش رہیں شاد رہیں ان کو دعا دیتے ہیں
بہر تسکیں کبھی احباب نے اتنا نہ کہا
کیوں پریشاں ہو جریحؔ ان کو بلا دیتے ہیں