تا بہ کے تیر پہ او تیر لگانے والے
تا بہ کے تیر پہ او تیر لگانے والے
دیکھ مر جائیں نہ یہ ناز اٹھانے والے
جان دے دوں گا کہا میں نے تو وہ کہتے ہیں
ایسے دیکھے ہیں بہت جان سے جانے والے
جس طرح اپنی بسر ہوتی ہے ہو جاتی ہے
خوش رہیں شاد رہیں دل کے جلانے والے
جذب دل چاہے ہے الفت میں اثر ہو صاحب
بن بلائے ہی چلے آتے ہیں آنے والے
شکر کرتے ہیں شکایت کی جگہ ہم ہر بار
ہم سے کم ہوں گے ترے جور اٹھانے والے
درد و غم رنج و الم حیرت و یاس و حرماں
یہی مہمان تو ہیں آ کے نہ جانے والے
ان کے کوچے سے میں گزرا تو کہا شوخی سے
کیوں ادھر آتے ہیں سنتے بھی ہو جانے والے
جان دینے کو ہیں تیار جریحؔ مضطر
تم نے دیکھے نہیں کیا ناز اٹھانے والے