حرص و ہوا کے ہیں سب بندے کچھ بھی خدا سے کام نہیں

حرص و ہوا کے ہیں سب بندے کچھ بھی خدا سے کام نہیں
تف ہے ایسے جینے پر ہے جس کا نیک انجام نہیں


میں نے ہی پہلے دیکھا تھا میں ہی گرا تھا غش کھا کر
میں ہی ملزم میں ہی مجرم آپ پہ کچھ الزام نہیں


حالت نزع مت پوچھو تم سکتہ کا سا عالم ہے
اب کوئی دم کا ہے مہماں صبح ہوئی تو شام نہیں


حالت کیا ہے جریحؔ خستہ کچھ منہ سے تو بتلاؤ
سن کے غم میں ہو سرگشتہ یاد بھی اس کا نام نہیں