KHvaaja Gulaamus Syedain Rabbani

خواجہ غلام السیدین ربانی

  • 1956

خواجہ غلام السیدین ربانی کی غزل

    دل میں گر روشنی نہیں ہوگی

    دل میں گر روشنی نہیں ہوگی شعر میں زندگی نہیں ہوگی آپ بھی ہو چلے ہیں جاہ پسند آپ سے دوستی نہیں ہوگی خواہشیں سب نکال دیں دل سے اب تو شرمندگی نہیں ہوگی آپ ایوان میں بھی کچھ نہ کہیں یوں نمائندگی نہیں ہوگی

    مزید پڑھیے

    اس لگام سے چھوٹے اس لگام تک پہنچے

    اس لگام سے چھوٹے اس لگام تک پہنچے ہم پچاس سالوں میں اس مقام تک پہنچے مقتدی تو بے چارے کب کے آئے بیٹھے ہیں اک اذان ہو جائے جو امام تک پہنچے ساس ہے جہاں دیدہ کب بھلا یہ چاہے گی یہ بہو بھی اس گھر کے انتظام تک پہنچے پکے پکے رنگوں کی کچی ڈور کے بل پر اک پتنگ اپنی بھی ان کے بام تک ...

    مزید پڑھیے

    ادھر بھی مہربانی کیجئے گا

    ادھر بھی مہربانی کیجئے گا زمیں کو آسمانی کیجئے گا ذرا سا مسکرا کر جان جاناں فضا کو زعفرانی کیجئے گا چراغوں کی زمیں پر بندہ پرور ہوا سے حکمرانی کیجئے گا ہماری داستان غم کا چرچا کبھی اپنی زبانی کیجئے گا کنارے پر ڈبو کر اپنی کشتی سمندر پانی پانی کیجئے گا

    مزید پڑھیے

    گھر میں اپنا شمار چاہتے ہیں

    گھر میں اپنا شمار چاہتے ہیں یعنی ہم اختیار چاہتے ہیں کچھ تو طے ہو زر مبادل جاں اب کے ہم کاروبار چاہتے ہیں عہد و میثاق توڑنے والے پھر سے سودا ادھار چاہتے ہیں عزتیں مفت میں نہیں ملتیں مرتبے اعتبار چاہتے ہیں ایک نسبت تمہارے در سے رہے ہم کہاں افتخار چاہتے ہیں کچھ تو اورنگ جاں ...

    مزید پڑھیے

    وہ اس طرح بھی مجھے آزمانے لگتا ہے

    وہ اس طرح بھی مجھے آزمانے لگتا ہے مزاج پوچھتا ہے مسکرانے لگتا ہے کوئی تو ہے جو رہائی کے حکم سے پہلے ہماری قید کی مدت بڑھانے لگتا ہے نگاہ اس کی عجب ہے کہ کچھ نہیں کہتی مگر بدن ہے کہ اکثر بلانے لگتا ہے امیر شہر کی مٹھی میں ہے مرا منصف بیاں سے پہلے سزائیں سنانے لگتا ہے ہماری روح ...

    مزید پڑھیے