گھر میں اپنا شمار چاہتے ہیں

گھر میں اپنا شمار چاہتے ہیں
یعنی ہم اختیار چاہتے ہیں


کچھ تو طے ہو زر مبادل جاں
اب کے ہم کاروبار چاہتے ہیں


عہد و میثاق توڑنے والے
پھر سے سودا ادھار چاہتے ہیں


عزتیں مفت میں نہیں ملتیں
مرتبے اعتبار چاہتے ہیں


ایک نسبت تمہارے در سے رہے
ہم کہاں افتخار چاہتے ہیں


کچھ تو اورنگ جاں کی زیب بڑھے
ایک کچا مزار چاہتے ہیں