دل میں گر روشنی نہیں ہوگی خواجہ غلام السیدین ربانی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں دل میں گر روشنی نہیں ہوگی شعر میں زندگی نہیں ہوگی آپ بھی ہو چلے ہیں جاہ پسند آپ سے دوستی نہیں ہوگی خواہشیں سب نکال دیں دل سے اب تو شرمندگی نہیں ہوگی آپ ایوان میں بھی کچھ نہ کہیں یوں نمائندگی نہیں ہوگی