وہ اس طرح بھی مجھے آزمانے لگتا ہے
وہ اس طرح بھی مجھے آزمانے لگتا ہے
مزاج پوچھتا ہے مسکرانے لگتا ہے
کوئی تو ہے جو رہائی کے حکم سے پہلے
ہماری قید کی مدت بڑھانے لگتا ہے
نگاہ اس کی عجب ہے کہ کچھ نہیں کہتی
مگر بدن ہے کہ اکثر بلانے لگتا ہے
امیر شہر کی مٹھی میں ہے مرا منصف
بیاں سے پہلے سزائیں سنانے لگتا ہے
ہماری روح کو رخصت ہوئے زمانہ ہوا
یہ دیکھنا ہے بدن کب ٹھکانے لگتا ہے