دل میں گر روشنی نہیں ہوگی
دل میں گر روشنی نہیں ہوگی شعر میں زندگی نہیں ہوگی آپ بھی ہو چلے ہیں جاہ پسند آپ سے دوستی نہیں ہوگی خواہشیں سب نکال دیں دل سے اب تو شرمندگی نہیں ہوگی آپ ایوان میں بھی کچھ نہ کہیں یوں نمائندگی نہیں ہوگی
دل میں گر روشنی نہیں ہوگی شعر میں زندگی نہیں ہوگی آپ بھی ہو چلے ہیں جاہ پسند آپ سے دوستی نہیں ہوگی خواہشیں سب نکال دیں دل سے اب تو شرمندگی نہیں ہوگی آپ ایوان میں بھی کچھ نہ کہیں یوں نمائندگی نہیں ہوگی
اس لگام سے چھوٹے اس لگام تک پہنچے ہم پچاس سالوں میں اس مقام تک پہنچے مقتدی تو بے چارے کب کے آئے بیٹھے ہیں اک اذان ہو جائے جو امام تک پہنچے ساس ہے جہاں دیدہ کب بھلا یہ چاہے گی یہ بہو بھی اس گھر کے انتظام تک پہنچے پکے پکے رنگوں کی کچی ڈور کے بل پر اک پتنگ اپنی بھی ان کے بام تک ...
ادھر بھی مہربانی کیجئے گا زمیں کو آسمانی کیجئے گا ذرا سا مسکرا کر جان جاناں فضا کو زعفرانی کیجئے گا چراغوں کی زمیں پر بندہ پرور ہوا سے حکمرانی کیجئے گا ہماری داستان غم کا چرچا کبھی اپنی زبانی کیجئے گا کنارے پر ڈبو کر اپنی کشتی سمندر پانی پانی کیجئے گا
گھر میں اپنا شمار چاہتے ہیں یعنی ہم اختیار چاہتے ہیں کچھ تو طے ہو زر مبادل جاں اب کے ہم کاروبار چاہتے ہیں عہد و میثاق توڑنے والے پھر سے سودا ادھار چاہتے ہیں عزتیں مفت میں نہیں ملتیں مرتبے اعتبار چاہتے ہیں ایک نسبت تمہارے در سے رہے ہم کہاں افتخار چاہتے ہیں کچھ تو اورنگ جاں ...
وہ اس طرح بھی مجھے آزمانے لگتا ہے مزاج پوچھتا ہے مسکرانے لگتا ہے کوئی تو ہے جو رہائی کے حکم سے پہلے ہماری قید کی مدت بڑھانے لگتا ہے نگاہ اس کی عجب ہے کہ کچھ نہیں کہتی مگر بدن ہے کہ اکثر بلانے لگتا ہے امیر شہر کی مٹھی میں ہے مرا منصف بیاں سے پہلے سزائیں سنانے لگتا ہے ہماری روح ...