Khushtar Makranvi

خوشتر مکرانوی

خوشتر مکرانوی کی غزل

    زندگی بیمار ہو کر رہ گئی

    زندگی بیمار ہو کر رہ گئی سایۂ دیوار ہو کر رہ گئی کون گائے گا بجائے گا اسے شاعری اخبار ہو کر رہ گئی زخم جب بھی مندمل ہونے لگے گل مکھی انگار ہو کر رہ گئی جس میں تیری آنکھ کے آنسو بہے وہ ندی شہکار ہو کر رہ گئی کس قدر پہلو ہیں خوشترؔ بات میں ہر کلی گلزار ہو کر رہ گئی

    مزید پڑھیے

    مری آواز کو پہچان لے گا

    مری آواز کو پہچان لے گا وہ اپنے راز کو پہچان لے گا نہیں مانے گا راوی کے حوالے ترے انداز کو پہچان لے گا مٹا دے گا ہر اک آزاد تن کو وہ جب بھی کاز کو پہچان لے گا وہ دنیا کا نکما آدمی ہے کہاں اعجاز کو پہچان لے گا چلے گا جب قلم کاغذ پہ خوشترؔ غزل کے ساز کو پہچان لے گا

    مزید پڑھیے

    سانس کی برسات میری زندگی

    سانس کی برسات میری زندگی دھوپ ہے نہ رات میری زندگی بندگی کے واسطے مختص ہوئے ہیں وہی لمحات میری زندگی آتے جاتے موسموں کی دھڑکنیں عالمی خدمات میری زندگی دیکھیے خود آپ کے منظر تلک اپنے محسوسات میری زندگی روشنی خوشبو ہوا خوشترؔ فضا پیار کی سوغات میری زندگی

    مزید پڑھیے

    دیکھ لی اس کی ذہانت دیکھ لی

    دیکھ لی اس کی ذہانت دیکھ لی جھوٹ ہے کتنی صداقت دیکھ لی ایک جانب دیکھتا ہے رات دن اور کہتا ہے حقیقت دیکھ لی ڈوبتے رہتے ہیں سائے آپ میں آپ کی میں نے ضرورت دیکھ لی خامشی کا خول ٹوٹے گا کہیں باطنی باہر کی رنگت دیکھ لی روشنی رکھتی ہے سانسوں میں دھواں پیار کی خوشترؔ حکومت دیکھ لی

    مزید پڑھیے