زندگی بیمار ہو کر رہ گئی

زندگی بیمار ہو کر رہ گئی
سایۂ دیوار ہو کر رہ گئی


کون گائے گا بجائے گا اسے
شاعری اخبار ہو کر رہ گئی


زخم جب بھی مندمل ہونے لگے
گل مکھی انگار ہو کر رہ گئی


جس میں تیری آنکھ کے آنسو بہے
وہ ندی شہکار ہو کر رہ گئی


کس قدر پہلو ہیں خوشترؔ بات میں
ہر کلی گلزار ہو کر رہ گئی