مری آواز کو پہچان لے گا

مری آواز کو پہچان لے گا
وہ اپنے راز کو پہچان لے گا


نہیں مانے گا راوی کے حوالے
ترے انداز کو پہچان لے گا


مٹا دے گا ہر اک آزاد تن کو
وہ جب بھی کاز کو پہچان لے گا


وہ دنیا کا نکما آدمی ہے
کہاں اعجاز کو پہچان لے گا


چلے گا جب قلم کاغذ پہ خوشترؔ
غزل کے ساز کو پہچان لے گا