Khurshid Rabbani

خورشید ربانی

  • 1973

خورشید ربانی کی غزل

    سائے کو دھوپ دھوپ کو سایہ بنا لیا

    سائے کو دھوپ دھوپ کو سایہ بنا لیا اک لمحۂ وصال نے کیا کیا بنا لیا اک شہر نا شناس میں جانے کی دیر تھی بیگانگی نے مجھ کو تماشا بنا لیا آوارگان شوق کا رستے میں تھا ہجوم میں نے مگر ہجوم میں رستا بنا لیا خوابوں کی میں نے ایک عمارت بنائی اور یادوں کا اس میں ایک دریچہ بنا لیا اتنی سی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی رسوائی ہے نہ شہرت ہے

    کوئی رسوائی ہے نہ شہرت ہے یہ محبت ہے یا کرامت ہے شوق میرا نہیں جنوں انگیز سو بیاباں کو مجھ سے وحشت ہے رنگ کیا کیا ہیں زیر بند قبا در و دیوار تک کو حیرت ہے وہ تغافل شعار کیا جانے عشق تو حسن کی ضرورت ہے میرے خورشید خوش گمان نہ ہو مسکرانا تو اس کی عادت ہے

    مزید پڑھیے

    کوئی گلاب کبھی اس کا دل دکھایا تھا

    کوئی گلاب کبھی اس کا دل دکھایا تھا سو ریگزار پہ بھی وحشتوں کا سایہ تھا اتر کے شاخ سے اک ایک زرد پتے نے نئی رتوں کے لیے راستہ بنایا تھا وہ شاخ سایۂ اخلاص کٹ گئی اک روز تپش سے جس نے مجھے عمر بھر بچایا تھا شجر شجر کو نشانہ بنانے والو تمہیں خیال بھی نہ کسی گھونسلے کا آیا تھا کسی ...

    مزید پڑھیے

    شام کنارے اترا میں

    شام کنارے اترا میں ہو گیا ریزہ ریزہ میں جنگل کی ویرانی میں خاموشی سے گونجا میں تنہائی میں روشن ہوں ایک دیا یادوں کا میں سندھ کنارے ہوں خورشیدؔ پیاس بھرا مشکیزہ میں

    مزید پڑھیے

    کنار شام کیا جلنے لگا ہے

    کنار شام کیا جلنے لگا ہے ہر اک بجھتا دیا جلنے لگا ہے ترا بخشا ہوا اک زخم پیارے چلی ٹھنڈی ہوا جلنے لگا ہے کسی کے عکس میں تھی ایسی حدت تپش سے آئینا جلنے لگا ہے ستارہ سا کوئی آگے رواں ہے کہ میرا راستہ جلنے لگا ہے

    مزید پڑھیے

    سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا

    سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا ہر اک شے نے اپنا سایہ پہن لیا تھا اپنا عریاں جسم چھپانے کی کوشش میں تیز ہوا نے پتا پتا پہن لیا تھا ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے اور فلک نے چاند ستارہ پہن لیا تھا سارا شہر شریک ہوا تھا اس کے دکھ میں جس دن اس نے غم کا لمحہ پہن لیا ...

    مزید پڑھیے

    گمان خاک میں سب کے ملانے والا ہے

    گمان خاک میں سب کے ملانے والا ہے کوئی چراغ ہوائیں بجھانے والا ہے افق افق پہ مہکتی ہوئی شفق سے کھلا کوئی ستارہ کہیں جگمگانے والا ہے نہ جانے کون پس چشم ہے جنوں پیشہ جو آنسوؤں کے خزانے لٹانے والا ہے یہ کون آگ لگانے پہ ہے یہاں مامور یہ کون شہر کو مقتل بنانے والا ہے

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2