Khurshid Rabbani

خورشید ربانی

  • 1973

خورشید ربانی کی غزل

    کوئی دل میں سما گیا ہوا تھا

    کوئی دل میں سما گیا ہوا تھا زندگی سے میں آشنا ہوا تھا اس کا بند قبا کھلا ہوا تھا یا کوئی عکس آئنہ ہوا تھا بات کرنے کو لفظ تھے ہی نہیں آنکھوں آنکھوں میں فیصلہ ہوا تھا کوئی آیا تھا میرے گھر میں اور سارا آنگن کھلا کھلا ہوا تھا کس کی خاطر اجاڑ رستے پر پھول لے کر شجر کھڑا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    ترے فراق میں جو آنکھ سے رواں ہوا ہے

    ترے فراق میں جو آنکھ سے رواں ہوا ہے وہ اشک خوں ہی مرے غم کا ترجماں ہوا ہے ہے جانے کیا پس دیوار آئینہ جس پر یقین کر کے بھی دل وقف صد گماں ہوا ہے بریدہ شاخ شجر کا شکستہ پتوں کا ترے سوا بھی کوئی موجۂ خزاں ہوا ہے ذرا سی دیر کو اس نے پلٹ کے دیکھا تھا ذرا سی بات کا چرچا کہاں کہاں ہوا ...

    مزید پڑھیے

    مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے

    مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے سفر کے باب میں لیکن سہارا خواب کا ہے ترے خیال کا صحرا عبور کرنے میں ہے نفع درد کا لیکن خسارہ خواب کا ہے جلے بجھے ہوئے خیمے کی راکھ میں جس کو ستارے ڈھونڈتے ہیں وہ شرارہ خواب کا ہے خدا کرے کہ کھلے ایک دن زمانے پر مری کہانی میں جو استعارہ خواب کا ...

    مزید پڑھیے

    دل و نگاہ میں کچھ اس طرح سما گئی ہے

    دل و نگاہ میں کچھ اس طرح سما گئی ہے تری نظر تو مجھے آئینہ بنا گئی ہے ہوائے تازہ کا جھونکا ادھر سے کیا گزرا گرے پڑے ہوئے پتوں میں جان آ گئی ہے مرے غموں کا مداوا کرے گا کیا کوئی شکست شیشۂ دل کی کہیں صدا گئی ہے یہ دل کہ زرد پڑا تھا کئی زمانوں سے میں تیرا نام لیا اور بہار آ گئی ...

    مزید پڑھیے

    عکس گل ہوں کہ نقش حیرت ہوں

    عکس گل ہوں کہ نقش حیرت ہوں آئنے میں تری ضرورت ہوں گونجتا ہوں دلوں کے گنبد میں ایک آوازۂ محبت ہوں نارسائی مرا مقدر ہے زیر لب اک بیان حسرت ہوں دل آسودہ ہے وطن میرا میں تمنائے دشت غربت ہوں میں ہوں اک پیکر خیال و خواب اور کتنی بڑی حقیقت ہوں گرچہ میں حرف خاک ہوں خورشیدؔ پھر بھی ...

    مزید پڑھیے

    جب آفتاب گھر پہ بلایا تھا شام نے

    جب آفتاب گھر پہ بلایا تھا شام نے کیا کیا دیے تھے جن کو جلایا تھا شام نے کیا کیا خوشی تھی وعدۂ ماہ تمام کی گھر کو بہشت زار بنایا تھا شام نے کیا کیا تھے خواب رات جو تعبیر ہو گئے کیا کیا دلوں میں حشر اٹھایا تھا شام نے کیا کیا اڑی تھی گردش دوراں کے دل میں خاک جب رت جگے سے ہاتھ ملایا ...

    مزید پڑھیے

    صلیب درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو

    صلیب درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو غم فراق سے مارا گیا تھا کیوں مجھ کو کسی خیال کسی خواب کے جزیرے پر تمام عمر گزارا گیا تھا کیوں مجھ کو پلٹ رہا تھا در خواب سے جو خالی ہاتھ تو بار بار پکارا گیا تھا کیوں مجھ کو کف گماں سے جو گرنا تھا عمر بھر کے لیے تو ایک پل کو سراہا گیا تھا کیوں ...

    مزید پڑھیے

    جب اس نے نہیں دیکھا جب اس کو نہیں بھائی

    جب اس نے نہیں دیکھا جب اس کو نہیں بھائی کس کام کی آرائش کس کام کی زیبائی یہ کار محبت بھی کیا کار محبت ہے اک حرف تمنا ہے اور اس کی پذیرائی اک پل کی مسافت تھی اس دل سے ترے دل تک اس راہ میں بھی لیکن اک عمر بتا آئی جب کوئی اسے دیکھے بس دیکھتا رہ جائے یہ حسن کی خوبی ہے یہ حسن کی ...

    مزید پڑھیے

    جب سے اس شہر بے مکان میں ہوں

    جب سے اس شہر بے مکان میں ہوں میں ترے اسم کی امان میں ہوں گنبد شعر میں جو گونجتی ہے میں اسی درد کی اذان میں ہوں میں نے تنہائیوں کو پا لیا ہے اس لیے خواب ہی کے دھیان میں ہوں تتلیاں رنگ چنتی رہتی ہیں اور میں خوشبوؤں کی کان میں ہوں وحشتیں عشق اور مجبوری کیا کسی خاص امتحان میں ...

    مزید پڑھیے

    چراغ زخم تمنا کی لو بڑھائے ہوئے

    چراغ زخم تمنا کی لو بڑھائے ہوئے فصیل دل میں ہے اک آس در بنائے ہوئے اک آرزو کے سفر سے پلٹ رہا ہوں میں دل و نگاہ کی محرومیاں اٹھائے ہوئے کوئی نہیں جو مٹائے مری سیہ بختی فلک پہ کتنے ستارے ہیں جگمگائے ہوئے بہت دنوں سے ہے خورشیدؔ یہ خرابۂ دل مرے نصیب کی ویرانیاں بسائے ہوئے

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2