Khurshid Rabbani

خورشید ربانی

  • 1973

خورشید ربانی کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    کوئی دل میں سما گیا ہوا تھا

    کوئی دل میں سما گیا ہوا تھا زندگی سے میں آشنا ہوا تھا اس کا بند قبا کھلا ہوا تھا یا کوئی عکس آئنہ ہوا تھا بات کرنے کو لفظ تھے ہی نہیں آنکھوں آنکھوں میں فیصلہ ہوا تھا کوئی آیا تھا میرے گھر میں اور سارا آنگن کھلا کھلا ہوا تھا کس کی خاطر اجاڑ رستے پر پھول لے کر شجر کھڑا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    ترے فراق میں جو آنکھ سے رواں ہوا ہے

    ترے فراق میں جو آنکھ سے رواں ہوا ہے وہ اشک خوں ہی مرے غم کا ترجماں ہوا ہے ہے جانے کیا پس دیوار آئینہ جس پر یقین کر کے بھی دل وقف صد گماں ہوا ہے بریدہ شاخ شجر کا شکستہ پتوں کا ترے سوا بھی کوئی موجۂ خزاں ہوا ہے ذرا سی دیر کو اس نے پلٹ کے دیکھا تھا ذرا سی بات کا چرچا کہاں کہاں ہوا ...

    مزید پڑھیے

    مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے

    مرے نصیب کا ہے یا ستارہ خواب کا ہے سفر کے باب میں لیکن سہارا خواب کا ہے ترے خیال کا صحرا عبور کرنے میں ہے نفع درد کا لیکن خسارہ خواب کا ہے جلے بجھے ہوئے خیمے کی راکھ میں جس کو ستارے ڈھونڈتے ہیں وہ شرارہ خواب کا ہے خدا کرے کہ کھلے ایک دن زمانے پر مری کہانی میں جو استعارہ خواب کا ...

    مزید پڑھیے

    دل و نگاہ میں کچھ اس طرح سما گئی ہے

    دل و نگاہ میں کچھ اس طرح سما گئی ہے تری نظر تو مجھے آئینہ بنا گئی ہے ہوائے تازہ کا جھونکا ادھر سے کیا گزرا گرے پڑے ہوئے پتوں میں جان آ گئی ہے مرے غموں کا مداوا کرے گا کیا کوئی شکست شیشۂ دل کی کہیں صدا گئی ہے یہ دل کہ زرد پڑا تھا کئی زمانوں سے میں تیرا نام لیا اور بہار آ گئی ...

    مزید پڑھیے

    عکس گل ہوں کہ نقش حیرت ہوں

    عکس گل ہوں کہ نقش حیرت ہوں آئنے میں تری ضرورت ہوں گونجتا ہوں دلوں کے گنبد میں ایک آوازۂ محبت ہوں نارسائی مرا مقدر ہے زیر لب اک بیان حسرت ہوں دل آسودہ ہے وطن میرا میں تمنائے دشت غربت ہوں میں ہوں اک پیکر خیال و خواب اور کتنی بڑی حقیقت ہوں گرچہ میں حرف خاک ہوں خورشیدؔ پھر بھی ...

    مزید پڑھیے

تمام