Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی نظم

    ایک اچانک موت کا نوحہ

    بظاہر یہ لگتا ہے اس ملگجی صبح کو سب سہاروں نے جیسے اچانک ترا ساتھ چھوڑا سحر نے زمیں پر قدم جب رکھا تو اچانک زمیں بے وفا ہو گئی ابھرتا ہوا آفتاب ایک ہی ناگہاں لغزش پا سے یوں لڑکھڑایا کہ مغرب کے پاتال میں منہ کے بل جا سمایا اچانک فرشتے کفن سائباں کی طرح تان کر آسمانوں سے اترے گلوں ...

    مزید پڑھیے

    پہچان

    کہیں تم ملو تو مسائل کو الجھا ہوا چھوڑ کر ہم علائق کی زنجیر کو توڑ کر ہم چلیں اور کنج چمن میں کہیں سایۂ تاک میں بیٹھ کر بھولے بسرے زمانوں کی باتیں کریں اور اک دوسرے کے خد و خال میں اپنے کھوئے ہوئے نقش پہچان کر محو حیرت رہیں اور نرگس کی صورت وہیں جڑ پکڑ لیں

    مزید پڑھیے

    ہوک

    جب کتابوں کے نوشتوں سے پھسل کر مری درماندہ نگاہ چار سو پھیلے ہوئے صفحۂ ایام پہ جا پڑتی ہے دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے ابھر آتے ہیں دکھتے ہوئے جاں کاہ سوال پھر اسی ہوک کے لہجے میں خدا بولتا ہے زندگانی کی کڑی شرطیں ہیں یہ عبادت ہے تمہاری کہ مرے بخشے ہوئے دکھ جھیلو ان پرندوں کا، ...

    مزید پڑھیے

    دھند اچھی ہے

    دھند اچھی ہے مرے ذہن کی ہم زاد ہے دھند دھند اچھی ہے ہر اک جبر سے آزاد ہے دھند دھند میں ڈوبے ہوئے خار و گل او سنگ و زجاج اچھے ہیں ایک ابہام میں تحلیل ہوئے جاتے ہیں منظر سارے پردۂ ذہن پہ کجلائے ہوئے شہر کی تصویر ہے دھند خواب میں دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر ہے دھند ہاں مگر دھند کے اس ...

    مزید پڑھیے

    قرب قیامت

    یہ چڑیا جو پنکھے سے ٹکرا گئی ہے اسے تو فقط آشیانہ بنانے کی دھن تھی اسے وقت کی پیٹھ سے لاکھ دو لاکھ سالوں کے گرنے کا اندازہ کب تھا اسے کیا خبر تھی وہ سر سبز ایام مرجھا چکے ہیں وہ انساں سے پہلے کے شاداب جنگل جہاں گھونسلوں اور اڑانوں کے مابین دھاتوں کی پراں فصلیں نہیں تھیں عقابوں کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2