ایک اچانک موت کا نوحہ
بظاہر یہ لگتا ہے اس ملگجی صبح کو سب سہاروں نے جیسے اچانک ترا ساتھ چھوڑا سحر نے زمیں پر قدم جب رکھا تو اچانک زمیں بے وفا ہو گئی ابھرتا ہوا آفتاب ایک ہی ناگہاں لغزش پا سے یوں لڑکھڑایا کہ مغرب کے پاتال میں منہ کے بل جا سمایا اچانک فرشتے کفن سائباں کی طرح تان کر آسمانوں سے اترے گلوں ...