Khursheed Akbar

خورشید اکبر

مابعد جدید اردو شاعر،نجات پسند شاعر،تعبیر نواز تخلیقی نظریے کے لیے معروف

Post Modern Urdu Poet known for Libertanian radical views.

خورشید اکبر کی غزل

    ستم کی انتہا پر چل رہی ہے

    ستم کی انتہا پر چل رہی ہے یہ دنیا کس خدا پر چل رہی ہے دلوں پر قہر کا موسم ہے کیسا مری بستی دعا پر چل رہی ہے لہو سے کھیلتے ہیں سب فرشتے سیاست فاتحہ پر چل رہی ہے زباں کاٹی گئی کس خوش دہن کی کہ حجت ذائقہ پر چل رہی ہے بدن میں سانس لیتا ہے سمندر مری کشتی ہوا پر چل رہی ہے قناعت ہے کسی ...

    مزید پڑھیے

    غلام سر پہ عبادت ابھی نہ رکھی جائے

    غلام سر پہ عبادت ابھی نہ رکھی جائے خدا کے نام بغاوت ابھی نہ رکھی جائے میں ٹھیک ٹھاک تو کر لوں حسب نسب اپنا لہو پہ شرط ندامت ابھی نہ رکھی جائے کہ جس کی آنچ سے جبریل آگہی جھلسیں انا میں اتنی تمازت ابھی نہ رکھی جائے ہمارے شہر کی مٹی ہے شر پسند بہت یہاں فصیل حفاظت ابھی نہ رکھی ...

    مزید پڑھیے

    بدن کی راکھ سے روشن شرارہ کر کے دیکھوں گا

    بدن کی راکھ سے روشن شرارہ کر کے دیکھوں گا میں اپنی جان کو اب کے ستارہ کر کے دیکھوں گا وہ تنہا جستجو بے چین سی رہتی ہے آنکھوں میں قیامت آ بھی جائے تو گوارہ کر کے دیکھوں گا قضا اکثر مرے کوچے سے بے پردہ گزرتی ہے اسے بھی کھیلتے ہنستے اشارہ کر کے دیکھوں گا یہ سوچا ہے لب لرزاں پہ رکھ ...

    مزید پڑھیے

    جسم کے مرتبان سے آگے

    جسم کے مرتبان سے آگے ذائقے سے زبان سے آگے تیر سارے کمان سے آگے اک خلش اور جان سے آگے اک پرندہ لہو میں تر گویا اک تصور اڑان سے آگے ایک بستی یقیں فروشوں کی اک علاقہ گمان سے آگے ایک فریاد نارسائی کی اک زمین آسمان سے آگے اک سفر اور ہے تہ گرداب اک جنوں بادبان سے آگے ایک خورشیدؔ کی ...

    مزید پڑھیے

    کسی بھی شہر کا موسم سہانا چھوڑ دیتے ہیں

    کسی بھی شہر کا موسم سہانا چھوڑ دیتے ہیں گراں ہو جائیں تو ہم آب و دانہ چھوڑ دیتے ہیں فقط اک بھول نے ماں باپ کو القط کیا گھر میں کہ بیٹے جب سیانے ہوں کمانا چھوڑ دیتے ہیں میاں بیوی کے رشتے اعتمادوں کی امانت ہیں مگر اک آنکھ دونوں غائبانہ چھوڑ دیتے ہیں انہیں معلوم ہیں مجبور جیبوں ...

    مزید پڑھیے

    دیکھتے دیکھتے جب موت ستارے کی ہوئی

    دیکھتے دیکھتے جب موت ستارے کی ہوئی پھر کوئی صبح کہاں خواب کے مارے کی ہوئی وہ مہاجر تھا مہاجر کا مہاجر ہی رہا کب ترے شہر میں تدبیر گزارے کی ہوئی اس کے فرمان سبھی دل کی سیاہی نے لکھے ایسی توہین کہاں نور نظارے کی ہوئی بجھتے بجھتے بھی ہوئی آتش جاں تیز بہت اور جو رسم تھی باقی وہ ...

    مزید پڑھیے

    سیاہ دل میں سفیدی کے بیج بوئے گا

    سیاہ دل میں سفیدی کے بیج بوئے گا بچھڑ کے جب وہ ملے گا تو خوب روئے گا ہے اس کے پاس اجالوں کا مرہمی لشکر وہ ساری رات اندھیروں کے زخم دھوئے گا بدی کا سبز سمندر پکارتا ہے اسے وہ نیکیوں کی سبھی کشتیاں ڈبوئے گا وہ دے گا روح کو نام و نسب کی محرومی بدن کی ڈور سے رشتے بہت پروئے گا میں اس ...

    مزید پڑھیے

    مقدس پتھروں پر مدعا روشن نہ ہونے کا

    مقدس پتھروں پر مدعا روشن نہ ہونے کا کہاں سر پھوڑیے اب معجزہ روشن نہ ہونے کا بھٹکتا پھر رہا ہوں نفس کے اندھے جزیرے میں سنا ہے اپنے حصے کا خدا روشن نہ ہونے کا سرایت کر گئیں ایمان کی خوش فہمیاں خوں میں درون قلب کوئی وسوسہ روشن نہ ہونے کا مرے تلووں پہ مسند ہو گئے کانٹے بیاباں کے دل ...

    مزید پڑھیے

    گزر گئی ہے مجھے ریگ زار کرتی ہوئی

    گزر گئی ہے مجھے ریگ زار کرتی ہوئی وہ ایک مچھلی سمندر شکار کرتی ہوئی نہ جانے کتنے بھنور کو رلا کے آئے ہے یہ میری کشتیٔ جاں خود کو پار کرتی ہوئی وہ ایک ساعت معصوم دل کی پروردہ مکر گئی ہے مگر اعتبار کرتی ہوئی جنوں کی آخری لرزیدہ مضمحل سی رات جھپک گئی ہے ذرا انتظار کرتی ہوئی یہ ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسا شہر ہے میں کس عجائب گھر میں رہتا ہوں

    یہ کیسا شہر ہے میں کس عجائب گھر میں رہتا ہوں میں کس کی آنکھ کا پانی ہوں کس پتھر میں رہتا ہوں وہ خوشبو اس تعلق سے بہت بے چین سی ہوگی میں کانٹا تھا مگر اک پھول کے بستر میں رہتا ہوں اسے اک دن یہی خانہ بدوشی خود بتائے گی میں اپنے گھر میں رہتا ہوں کہ اس کے گھر میں رہتا ہوں اگر مہلت ملے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3