Khursheed Akbar

خورشید اکبر

مابعد جدید اردو شاعر،نجات پسند شاعر،تعبیر نواز تخلیقی نظریے کے لیے معروف

Post Modern Urdu Poet known for Libertanian radical views.

خورشید اکبر کی غزل

    خواب صحرا تری تعبیر نکل آئی ہے

    خواب صحرا تری تعبیر نکل آئی ہے کوئی وحشت ہے کہ جاگیر نکل آئی ہے شاخ مژگاں کے پرندے ہیں یہ آنسو گویا آب و دانہ لیے تقدیر نکل آئی ہے خوں ابلتا ہے نکلتا ہے دھواں آنکھوں سے دیکھ پانی کی یہ تحریر نکل آئی ہے شہر اس طرح بیاباں میں گرا ہے جیسے وقت کے پاؤں سے زنجیر نکل آئی ہے زندگی تجھ ...

    مزید پڑھیے

    لہو میں ڈوبتا منظر خلاف رہتا ہے

    لہو میں ڈوبتا منظر خلاف رہتا ہے امیر شہر کا خنجر خلاف رہتا ہے یزید وقت کو دنیا قبول کر لے مگر سناں کی نوک پہ اک سر خلاف رہتا ہے سلگتی پیاس نے کر لی ہے مورچہ بندی اسی خطا پہ سمندر خلاف رہتا ہے مرے اصول کے بچے بھی احتجاجی ہیں ذرا جھکوں تو مرا گھر خلاف رہتا ہے میں چاہتا ہوں کہ ...

    مزید پڑھیے

    ایک منظر اضطرابی ایک منظر سے زیادہ

    ایک منظر اضطرابی ایک منظر سے زیادہ دل ہے ساحل دل سفینہ دل سمندر سے زیادہ دو جہاں کی نعمتوں کو دو بدن سے ضرب دے کر ایک لمحہ مانگتا ہوں بندہ پرور سے زیادہ اے بت توبہ شکن میں تجھ سے مل کر سوچتا ہوں پھول میں ہوتی نزاکت کاش پتھر سے زیادہ حسرت شہر نصیباں کیا تجھے معلوم بھی ہے دشت ہے ...

    مزید پڑھیے

    کون کس کے ساتھ رہتا ہے مکاں ہوتے ہوئے بھی

    کون کس کے ساتھ رہتا ہے مکاں ہوتے ہوئے بھی کون چلتا ہے زمیں پر آسماں ہوتے ہوئے بھی کون جانے خیر کا پہلو کہیں روشن ہو شاید ہم تمہارے شہر میں ہیں بے اماں ہوتے ہوئے بھی تیز بارش میں بھی کتنے پیاس کے مارے پڑے ہیں دھوپ میں جلتے ہیں کتنے سائباں ہوتے ہوئے بھی اس اندھیری رات میں وہ چاند ...

    مزید پڑھیے

    گھر بار کہاں کوچہ و بازار مری جاں

    گھر بار کہاں کوچہ و بازار مری جاں درویش کو دنیا نہیں درکار مری جاں اک شہر زمیں بوس ہے آمد پہ تمہاری رستے میں بچھے ہیں در و دیوار مری جاں کیوں عرصۂ افلاک سیہ پوش ہے بولو کس طرح زمیں ہو گئی گلنار مری جاں کچھ پھول ہیں شاخوں سے ابھی جھول رہے ہیں رخسار پہ رکھے ہوئے رخسار مری ...

    مزید پڑھیے

    یقیں ہے جس پہ وہی بد گماں نکلتا ہے

    یقیں ہے جس پہ وہی بد گماں نکلتا ہے مری زمین سے اس کا مکاں نکلتا ہے ہمارے شہر میں ہوتا ہے سانحہ لیکن خطا کہاں کی ہے غصہ کہاں نکلتا ہے یہ اور بات کہ وہ پاک سر زمیں ہے مگر وہاں کی خاک سے ہندوستاں نکلتا ہے مرے لیے تو اکیلا خدا بہت ہے مگر تمہارے واسطے سارا جہاں نکلتا ہے سیاہ رات ...

    مزید پڑھیے

    مت اسے ہاتھ لگانا وہ سجن آگ ہے آگ

    مت اسے ہاتھ لگانا وہ سجن آگ ہے آگ تم اسے خاک سمجھتے ہو بدن آگ ہے آگ اس کی حسرت میں بھلے لوگ مرے جاتے ہیں کون سمجھائے کہ وہ غنچہ دہن آگ ہے آگ اپنی تہذیب کو پانی کی ضرورت ہوگی چوم آیا ہوں لب گنگ و جمن آگ ہے آگ وہ جو مومن ہے تو مٹی ہی کفن ہے اس کا اور کافر ہے تو پھر اس کا کفن آگ ہے ...

    مزید پڑھیے

    وہ کون ہیں پھولوں کی حفاظت نہیں کرتے

    وہ کون ہیں پھولوں کی حفاظت نہیں کرتے سنتے ہیں جو خوشبو سے محبت نہیں کرتے تم ہو کہ ابھی شہر میں مصروف بہت ہو ہم ہیں کہ ابھی ذکر شہادت نہیں کرتے قرآن کا مفہوم انہیں کون بتائے آنکھوں سے جو چہروں کی تلاوت نہیں کرتے ساحل سے سنا کرتے ہیں لہروں کی کہانی یہ ٹھہرے ہوئے لوگ بغاوت نہیں ...

    مزید پڑھیے

    شہر کا شہر ہے بے زار کہاں جاؤں میں

    شہر کا شہر ہے بے زار کہاں جاؤں میں اور تنہائی ہے دشوار کہاں جاؤں میں لوگ مرتے ہیں سسکتے ہیں مزے لیتے ہیں دیکھ کر سرخیٔ اخبار کہاں جاؤں میں تو جو کہتا ہے کہ یہ خاک وطن تیری ہے میں کہاں پر ہوں مرے یار کہاں جاؤں میں ایک انکار پہ موقوف ہیں سارے قصے میں کہاں صاحب کردار کہاں جاؤں ...

    مزید پڑھیے

    ایک عرض مدعا ہونے سے پہلے

    ایک عرض مدعا ہونے سے پہلے سوچ لینا تھا خدا ہونے سے پہلے خواہشیں کتنی ادھوری رہ گئی ہیں جسم و جاں میں فاصلہ ہونے سے پہلے آخری تحریر ہے آب رواں پر آخری بوسہ قضا ہونے سے پہلے اس قدر میٹھا نہ ہونا چاہئے تھا ان لبوں کو ذائقہ ہونے سے پہلے اس کی آنکھوں کے پیالے ناچتے ہیں کھو گئے کتنے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3