خواب صحرا تری تعبیر نکل آئی ہے
خواب صحرا تری تعبیر نکل آئی ہے کوئی وحشت ہے کہ جاگیر نکل آئی ہے شاخ مژگاں کے پرندے ہیں یہ آنسو گویا آب و دانہ لیے تقدیر نکل آئی ہے خوں ابلتا ہے نکلتا ہے دھواں آنکھوں سے دیکھ پانی کی یہ تحریر نکل آئی ہے شہر اس طرح بیاباں میں گرا ہے جیسے وقت کے پاؤں سے زنجیر نکل آئی ہے زندگی تجھ ...