Khursheed Akbar

خورشید اکبر

مابعد جدید اردو شاعر،نجات پسند شاعر،تعبیر نواز تخلیقی نظریے کے لیے معروف

Post Modern Urdu Poet known for Libertanian radical views.

خورشید اکبر کی غزل

    ایک مفروضہ تقدس خود پہ طاری کر رہا ہوں

    ایک مفروضہ تقدس خود پہ طاری کر رہا ہوں کوہ عصیاں سے بہشتی نہر جاری کر رہا ہوں چاہتا ہوں عرش و کرسی تک پہنچنا رفتہ رفتہ اسفلینی خواہشوں پر یوں سواری کر رہا ہوں منہمک ہے پیرہن شغلی میں کیوں چشم تخیل میں ابھی عریاں بدن پر دست کاری کر رہا ہوں نفس تسکینی پہ اس نے سو تقاضے رکھ دیئے ...

    مزید پڑھیے

    خلا میں تیر رہا ہے سوال دنیا کا

    خلا میں تیر رہا ہے سوال دنیا کا خدا کو آئے گا کس دن خیال دنیا کا یہ اور بات کہ جنت یقیں سے آگے تھی وہاں بھی ساتھ گیا احتمال دنیا کا ہمارے نامۂ اعمال میں لکھا اس نے عروج آدم خاکی زوال دنیا کا یہ واقعہ ہے کہ انسان مر گیا پہلے پھر اس کے بعد ہوا انتقال دنیا کا کوئی خبر نہیں کس وقت ...

    مزید پڑھیے

    دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی

    دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی سنگ ریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی بے مروت ساعتوں کو روئیے کیوں عمر بھر ایک شے ...

    مزید پڑھیے

    لب دریا مرادوں کا مکاں کیسا رہا ہوگا

    لب دریا مرادوں کا مکاں کیسا رہا ہوگا گھنی پلکوں تلے آب رواں کیسا رہا ہوگا دہکتی آگ میں وہ سائباں کیسا رہا ہوگا ہمارے سر کے اوپر آسماں کیسا رہا ہوگا بہت بے چین ہے خاک بیاباں سر پٹکتی ہے دوانہ شہر بھر میں بے اماں کیسا رہا ہوگا ستارے بجھ گئے ہوں گے زمینیں جل رہی ہوں گی پھر اس کے ...

    مزید پڑھیے

    بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی

    بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی جیسے رستہ بھول گئی ہو ایک ندی پتھریلی سی میرے اس کے بیچ کا رشتہ اک مجبور ضرورت ہے میں سوکھے جذبوں کا ایندھن وہ ماچس کی تیلی سی دیکھوں کیسی فصل اگاتا ہے موسم تنہائی کا درد کے بیج کی نسل ہے اونچی دل کی مٹی گیلی سی دروازے پر منہ لٹکائے قلت ...

    مزید پڑھیے

    وہ اک چٹان جو پانی ہوئی سلیقے سے

    وہ اک چٹان جو پانی ہوئی سلیقے سے ندی کچھ اور سیانی ہوئی سلیقے سے نگہ کی دھار میں خنجر کا ذائقہ اترا دلوں کی بات زبانی ہوئی سلیقے سے اسے بھی کھا گئی تہذیب دیمکوں کی طرح نئی کتاب پرانی ہوئی سلیقے سے وہ ایک رات جو پہلو میں مطمئن تھی بہت قیامتوں کی نشانی ہوئی سلیقے سے اٹھے جو شہر ...

    مزید پڑھیے

    کب کسی گہرے سمندر کو ہوا سمجھے گی

    کب کسی گہرے سمندر کو ہوا سمجھے گی سطح پر تیرتی موجوں کو نوا سمجھے گی دو بدن درد کی لہروں پہ بھی مل سکتے ہیں اس رسالت کو کہاں باد صبا سمجھے گی روح کا زخم نہ پڑھ پائے گا گوتم پھر بھی وہ پجارن اسی پتھر کو خدا سمجھے گی وقت کافر کی خدائی ہے گنہ گار بہت ساری معصوم نمازوں کو قضا سمجھے ...

    مزید پڑھیے

    اسباب کہاں جان جہاں دیکھتے رہنا

    اسباب کہاں جان جہاں دیکھتے رہنا خالی کوئی دم ہے یہ مکاں دیکھتے رہنا تا عمر ترے شہر میں رہنا بھی نہیں ہے ملتی ہے کہاں جائے اماں دیکھتے رہنا پلکوں پہ کوئی ہے لب اظہار کی صورت رکھتا ہوں میں خنجر پہ زباں دیکھتے رہنا آنسو مرے بچوں کی طرح خون سے کھیلیں کچھ کھیل نہیں گھر کا زیاں ...

    مزید پڑھیے

    دریا میں بہت کچھ ہے روانی کے علاوہ

    دریا میں بہت کچھ ہے روانی کے علاوہ مدت سے میں سیراب ہوں پانی کے علاوہ اے شہر ستم زاد تری عمر بڑی ہو کچھ اور بتا نقل مکانی کے علاوہ ایمان شکن پیکر دوشیزۂ عالم سب کچھ ہے ترے پاس جوانی کے علاوہ کس عہد گنہ گار نے لی آخری ہچکی مصروف ہیں سب فاتحہ خوانی کے علاوہ رنگوں کو برتنے کا ہنر ...

    مزید پڑھیے

    سروں پر تاج رکھے تھے قدم پر تخت رکھا تھا

    سروں پر تاج رکھے تھے قدم پر تخت رکھا تھا وہ کیسا وقت تھا مٹھی میں سارا وقت رکھا تھا وہ تنہا خاکساری تھی نبھایا عمر بھر اس نے مزاج شاہ عالمگیر ورنہ سخت رکھا تھا بہت سامان تھا گھر میں بہت سی نعمتیں بھی تھیں مسافر نے مگر اپنا سفر بے رخت رکھا تھا گرے تھے دھیرے دھیرے سارے کنگورے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3