Khursheed Akbar

خورشید اکبر

مابعد جدید اردو شاعر،نجات پسند شاعر،تعبیر نواز تخلیقی نظریے کے لیے معروف

Post Modern Urdu Poet known for Libertanian radical views.

خورشید اکبر کے تمام مواد

30 غزل (Ghazal)

    ایک مفروضہ تقدس خود پہ طاری کر رہا ہوں

    ایک مفروضہ تقدس خود پہ طاری کر رہا ہوں کوہ عصیاں سے بہشتی نہر جاری کر رہا ہوں چاہتا ہوں عرش و کرسی تک پہنچنا رفتہ رفتہ اسفلینی خواہشوں پر یوں سواری کر رہا ہوں منہمک ہے پیرہن شغلی میں کیوں چشم تخیل میں ابھی عریاں بدن پر دست کاری کر رہا ہوں نفس تسکینی پہ اس نے سو تقاضے رکھ دیئے ...

    مزید پڑھیے

    خلا میں تیر رہا ہے سوال دنیا کا

    خلا میں تیر رہا ہے سوال دنیا کا خدا کو آئے گا کس دن خیال دنیا کا یہ اور بات کہ جنت یقیں سے آگے تھی وہاں بھی ساتھ گیا احتمال دنیا کا ہمارے نامۂ اعمال میں لکھا اس نے عروج آدم خاکی زوال دنیا کا یہ واقعہ ہے کہ انسان مر گیا پہلے پھر اس کے بعد ہوا انتقال دنیا کا کوئی خبر نہیں کس وقت ...

    مزید پڑھیے

    دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی

    دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی سنگ ریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی بے مروت ساعتوں کو روئیے کیوں عمر بھر ایک شے ...

    مزید پڑھیے

    لب دریا مرادوں کا مکاں کیسا رہا ہوگا

    لب دریا مرادوں کا مکاں کیسا رہا ہوگا گھنی پلکوں تلے آب رواں کیسا رہا ہوگا دہکتی آگ میں وہ سائباں کیسا رہا ہوگا ہمارے سر کے اوپر آسماں کیسا رہا ہوگا بہت بے چین ہے خاک بیاباں سر پٹکتی ہے دوانہ شہر بھر میں بے اماں کیسا رہا ہوگا ستارے بجھ گئے ہوں گے زمینیں جل رہی ہوں گی پھر اس کے ...

    مزید پڑھیے

    بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی

    بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی جیسے رستہ بھول گئی ہو ایک ندی پتھریلی سی میرے اس کے بیچ کا رشتہ اک مجبور ضرورت ہے میں سوکھے جذبوں کا ایندھن وہ ماچس کی تیلی سی دیکھوں کیسی فصل اگاتا ہے موسم تنہائی کا درد کے بیج کی نسل ہے اونچی دل کی مٹی گیلی سی دروازے پر منہ لٹکائے قلت ...

    مزید پڑھیے

تمام

19 نظم (Nazm)

    جاناں

    روٹھنا تھا کسے منانا تھا وقت کے ساتھ گنگنانا تھا لہر دریا کے ساتھ رہتی ہے بجلی بادل میں ہے عجب رشتہ سانس کی ڈور بن کے جسم کے ساتھ روح ہر لمحہ ہے روانی میں کھیلتی ہے وہ آگ پانی میں وقت کی بات ہے الگ جاناں حسن سوغات ہے الگ جاناں پھول سے روٹھتی ہے کب خوشبو رات سے روٹھتا ہے کب ...

    مزید پڑھیے

    بھیگا موسم

    اس نے کہا تھا چھوٹی سی فرمائش ہے! میں نے کہا تھا بھولی بھالی خواہش ہے! اس نے کہا تھا روح میں خارش ہوتی ہے میں نے کہا تھا جسموں کی سازش ہوتی ہے اس نے کہا تھا بادل کالے ہوتے ہیں میں نے کہا تھا بجلی گوری ہوتی ہے! اس نے کہا تھا جب دونوں ٹکراتے ہیں!! میں نے کہا تھا پھر تو بارش ہوتی ہے!!!! اس ...

    مزید پڑھیے

    صرف شبنم سے نہیں بجھتی پیاس

    پھول نے عشق کیا تتلی سے اور تتلی تھی کہ منڈراتی رہی جانے کیا سوچ کے گھبراتی رہی سوچتے سوچتے رفتہ رفتہ زانوئے گل پہ مگر بیٹھ گئی جینے مرنے کی بھی کھائی قسمیں پھر اڑی لوٹ کے آئی نہ کبھی ایک دن ایسا ہوا دست گلچیں میں وہی قید ہوئی ایک صیاد کی وہ صید ہوئی اور پھر سینکڑوں منت کے ...

    مزید پڑھیے

    میں وہ پتھر

    اس سے رشتہ رہا عجب میرا آ گیا نام بے سبب میرا اس سے آگے کے مرحلے پہ مگر نارسائی کے سلسلے پہ مگر میں تو کچھ بول بھی نہیں سکتا راز یہ کھول بھی نہیں سکتا سلسلہ دور تک اداسی کا ایک منظر ہے نا سپاسی کا جھوٹ ہو وقت ہو کہ عشق مدام یاد ہو خواب ہو کہ ہجر دوام ان کے تو پاؤں بھی نہیں ہوتے اور وہ ...

    مزید پڑھیے

    من تو شدم تو من شدی

    میں اگر خاک تو ہے آب مری تو ہے تعبیر میں ہوں خواب ترا تو اگر آگ میں ہوا کا شور تو زمیں میری میں ترا آکاش میں ترا جسم تو ہے روح مری عشق میرا ہے ریگ زاروں سا حسن تیرا ہے آبشاروں سا تو ہمالہ کی پر فضا وادی میں سمندر کی طرح آزادی اور کس کس طرح سے کیا بولوں عین فطرت کے راز کیا کھولوں یہ ...

    مزید پڑھیے

تمام