ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے

ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے
مسئلہ خیر سے نمٹ گیا ہے


کان مانوس ہوتے جائیں گے
اور لگے گا کہ شور گھٹ گیا ہے


وہ بھی خاموش ہو گیا میں بھی
یوں لگا جیسے فون کٹ گیا ہے


اک قدم میں نے آگے کیا رکھا
دو قدم کوئی پیچھے ہٹ گیا ہے


ہاتھ آنکھوں پہ رکھ کے چلتے ہیں
راستہ اب تو اتنا رٹ گیا ہے