Khumar Barabankavi

خمارؔ بارہ بنکوی

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

Popular poet who also penned film lyrics.

خمارؔ بارہ بنکوی کی غزل

    دل کو تسکین یار لے ڈوبی

    دل کو تسکین یار لے ڈوبی اس چمن کو بہار لے ڈوبی اشک تو پی گئے ہم ان کے حضور آہ بے اختیار لے ڈوبی عشق کے کاروبار کو اکثر گرمیٔ کاروبار لے ڈوبی حال غم ان سے بار بار کہا اور ہنسی بار بار لے ڈوبی تیرے ہر مشورے کو اے ناصح آج پھر یاد یار لے ڈوبی چار دن کا ہی ساتھ تھا لیکن زندگی اے ...

    مزید پڑھیے

    جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

    جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیں ہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیں دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں گزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہم کچھ دور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا

    مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا واعظ سلام لے کہ چلا مے کدے کو میں فردوس گم شدہ کا پتا یاد آ گیا برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا مانگیں گے اب دعا کہ ...

    مزید پڑھیے

    اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

    اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئے انجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں سرکار روشنی کا مزا ہم سے ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے

    ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے کیا تصور بھی لٹنے والا ہے غم تو ہے عین زندگی لیکن غم گساروں نے مار ڈالا ہے عشق مجبور و نا مراد سہی پھر بھی ظالم کا بول بالا ہے دیکھ کر برق کی پریشانی آشیاں خود ہی پھونک ڈالا ہے کتنے اشکوں کو کتنی آہوں کو اک تبسم میں اس نے ڈھالا ہے تیری باتوں کو میں نے ...

    مزید پڑھیے

    اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے

    اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے آ جا کہ زہر کھائے زمانے گزر گئے او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے کیا لائق ستم بھی نہیں اب میں دوستو پتھر بھی گھر میں آئے زمانے گزر گئے جان بہار ...

    مزید پڑھیے

    اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں

    اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں مری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں یہ کیسی ہوائے ترقی چلی ہے دیے تو دیے دل بجھے جا رہے ہیں الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں بہشت تصور کے جلوے ہیں میں ہوں جدائی سلامت مزے آ رہے ہیں قیامت کے آنے میں رندوں کو شک تھا جو دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

    وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ ...

    مزید پڑھیے

    کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں

    کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں دو پرندے اڑے آنکھ نم ہو گئی آج سمجھا کہ میں تجھ کو بھولا نہیں ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا نہیں ہر نظر میری بن جاتی زنجیر پا اس نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں چھوڑ بھی دے مرا ساتھ اے زندگی مجھ ...

    مزید پڑھیے

    حال غم ان کو سناتے جائیے

    حال غم ان کو سناتے جائیے شرط یہ ہے مسکراتے جائیے آپ کو جاتے نہ دیکھا جائے گا شمع کو پہلے بجھاتے جائیے شکریا لطف مسلسل کا مگر گاہے گاہے دل دکھاتے جائیے دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا دوستوں کو آزماتے جائیے روشنی محدود ہو جن کی خمارؔ ان چراغوں کو بجھاتے جائیے

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3