Khumar Barabankavi

خمارؔ بارہ بنکوی

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

Popular poet who also penned film lyrics.

خمارؔ بارہ بنکوی کی غزل

    کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا

    کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا ہزار ترک تعلق کا اہتمام کیا مگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا زمانے والوں کے ڈر سے اٹھا نہ ہاتھ مگر نظر سے اس نے بصد معذرت سلام کیا کبھی ہنسے کبھی آہیں بھریں کبھی روئے بقدر مرتبہ ہر غم کا احترام کیا ہمارے حصے کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

    وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد زندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعد دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد روشنی کے لیے دل جلانا پڑا ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا دوستوں کا خلوص ...

    مزید پڑھیے

    ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں

    ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں سنبھالے تو ہوں خود کو تجھ بن مگر جو چھو لے کوئی تو بکھر جاؤں میں اگر تو خفا ہو تو پروا نہیں ترا غم خفا ہو تو مر جاؤں میں تبسم نے اتنا ڈسا ہے مجھے کلی مسکرائے تو ڈر جاؤں میں مرا گھر فسادات میں جل چکا وطن جاؤں تو کس کے ...

    مزید پڑھیے

    حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

    حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئنہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو وہ بھی عطا ...

    مزید پڑھیے

    بات جب دوستوں کی آتی ہے

    بات جب دوستوں کی آتی ہے دوستی کانپ کانپ جاتی ہے مجھ سے اے دوست پھر خفا ہو جا عشق کو نیند آئی جاتی ہے اب قیامت سے کیا ڈرے کوئی اب قیامت تو روز آتی ہے بھاگتا ہوں میں زندگی سے خمارؔ اور یہ ناگن ڈسے ہی جاتی ہے

    مزید پڑھیے

    یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے

    یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے خدا ہے محبت محبت خدا ہے کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے مجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے ہوا کو بہت سرکشی کا نشہ ہے مگر یہ نہ بھولے دیا بھی دیا ہے میں اس سے جدا ہوں وہ مجھ سے جدا ہے محبت کے ماروں پہ فضل خدا ہے نظر میں ہے جلتے مکانوں کا منظر چمکتے ہیں جگنو ...

    مزید پڑھیے

    کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے

    کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے وہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازک نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے وہی آنکھ بے بہا ہے جو غم جہاں میں ڈوبے وہی جام جام ہے جو بغیر فرق چھلکے نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی یہ کہاں ...

    مزید پڑھیے

    نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

    نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے محبت بھی تنہائی دائمی ہے چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں نیا ہے زمانہ ...

    مزید پڑھیے

    بجھ گیا دل حیات باقی ہے

    بجھ گیا دل حیات باقی ہے چھپ گیا چاند رات باقی ہے حال دل ان سے کہہ چکے سو بار اب بھی کہنے کی بات باقی ہے اے خوشا ختم اجتناب مگر محشر التفات باقی ہے عشق میں ہم سمجھ چکے سب سے ایک ظالم حیات باقی ہے ناصحان کرام کے دم سے شورش کائنات باقی ہے رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے کٹ گئی عمر ...

    مزید پڑھیے

    ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

    ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی ہاتھوں سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3