Khumar Barabankavi

خمارؔ بارہ بنکوی

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

Popular poet who also penned film lyrics.

خمارؔ بارہ بنکوی کی غزل

    ہوش زدہ نادان سے ڈر

    ہوش زدہ نادان سے ڈر بات سمجھ انسان سے ڈر ترک محبت بھی ہے فریب ٹھہرے ہوئے طوفان سے ڈر راہ جنوں ہے راہ نجات کفر سے بھاگ ایمان سے ڈر دوری و قربت کچھ بھی نہیں عشق میں اطمینان سے ڈر موت بھی اتنی تلخ نہیں دوستوں کے احسان سے ڈر ایک تبسم کم نہ سمجھ آنسوؤں کے طوفان سے ڈر ہونٹھ ہنسیں ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ

    مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ ساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھ عشق ہے تشنگی کا نام توڑ دے گر ملے بھی جام شدت تشنگی نہ دیکھ لذت تشنگی سمجھ حسن کی مہربانیاں عشق کے حق میں زہر ہیں حسن کے اجتناب تک عشق کی زندگی سمجھ ترک تعلقات بھی عین تعلقات ہے آگ بجھی ہوئی نہ ...

    مزید پڑھیے

    ہنسنے والے اب ایک کام کریں

    ہنسنے والے اب ایک کام کریں جشن گریہ کا اہتمام کریں ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں پھر اندھیرے کہاں قیام کریں مجھ کو محرومیٔ نظارہ قبول آپ جلوے نہ اپنے عام کریں اک گزارش ہے حضرت ناصح آپ اب اور کوئی کام کریں آ چلیں اس کے در پہ اب اے دل زندگی کا سفر تمام کریں ہاتھ اٹھتا نہیں ہے ...

    مزید پڑھیے

    سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جا

    سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جا سنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جا عشق کو برقرار رکھ دل کو لگا کے بھول جا اس سے بھی مطمئن نہ ہو اس کو بھی پا کے بھول جا دل سے تڑپ جدا نہ کر ساز کو بے صدا نہ کر درد جو ہو فغاں طلب ہونٹھ ہلا کے بھول جا درد اٹھے اٹھا کرے چوٹ لگے لگا کرے کچھ بھی ...

    مزید پڑھیے

    وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہے

    وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہے اپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہے وہ اکیلے میں بھی جو لجاتے رہے ہو نہ ہو ان کو ہم یاد آتے رہے یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد دوستوں کے کرم یاد آتے رہے آنکھیں سوکھی ہوئی ندیاں بن گئیں اور طوفاں بدستور آتے رہے پیار سے ان کا انکار برحق مگر لب یہ کیوں دیر تک ...

    مزید پڑھیے

    ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

    ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو جاؤ اب کرو آرام ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے جی تو ہلکا ہوا مگر یارو رو کے ہم لطف غم گنوا بیٹھے بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے جب سے بچھڑے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے

    آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے آ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گے جا شوق سے لیکن پلٹ آنے کے لیے جا ہم دیر تلک خود کو سنبھالے نہ رہیں گے اے ذوق سفر خیر ہو نزدیک ہے منزل سب کہتے ہیں اب پاؤں میں چھالے نہ رہیں گے جن نالوں کی ہو جائے گی تا دوست رسائی وہ سانحے بن جائیں گے نالہ ...

    مزید پڑھیے

    تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے

    تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے کچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہئے مجھے یا رب معاف کر کے نہ دے کرب انفعال میں نے خطائیں کی ہیں سزا چاہئے مجھے خاموشئ حیات سے اکتا گیا ہوں میں اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہئے مجھے ان مست ...

    مزید پڑھیے

    غم دنیا بہت ایذا رساں ہے

    غم دنیا بہت ایذا رساں ہے کہاں ہے اے غم جاناں کہاں ہے اک آنسو کہہ گیا سب حال دل کا نہ سمجھا تھا یہ ظالم بے زباں ہے خدا محفوظ رکھتے آفتوں سے کئی دن سے طبیعت شادماں ہے وہ کانٹا ہے جو چبھ کر ٹوٹ جائے محبت کی بس اتنی داستاں ہے یہ مانا زندگی کامل ہے لیکن اگر آ جائے جینا جاوداں ...

    مزید پڑھیے

    پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئے

    پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئے راتوں کو دن بنائے زمانے گزر گئے جان بہار پھول نہیں آدمی ہوں میں آ جا کہ مسکرائے زمانے گزر گئے کیا لائق ستم بھی نہیں اب میں دوستو پتھر بھی گھر میں آئے زمانے گزر گئے او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے غم ہے نہ اب خوشی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3