بات جب دوستوں کی آتی ہے خمارؔ بارہ بنکوی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں بات جب دوستوں کی آتی ہے دوستی کانپ کانپ جاتی ہے مجھ سے اے دوست پھر خفا ہو جا عشق کو نیند آئی جاتی ہے اب قیامت سے کیا ڈرے کوئی اب قیامت تو روز آتی ہے بھاگتا ہوں میں زندگی سے خمارؔ اور یہ ناگن ڈسے ہی جاتی ہے