خاور رضوی کی غزل

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں فریب خوردۂ وہم و قیاس میں بھی نہیں فضائے شہر طلب ہے انا گزیدہ بہت ادا شناس رہ التماس میں بھی نہیں میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں وہ فیصلے کی گھڑی تھی کڑی سو بیت گئی بچھڑ کے تجھ سے کچھ ...

    مزید پڑھیے

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں فریب خوردۂ وہم و قیاس میں بھی نہیں فضائے شہر طلب ہے انا گزیدہ بہت ادا شناس رہ التماس میں بھی نہیں میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں یہ واقعہ کہ تجھے کھل رہی ہے تنہائی یہ حادثہ کہ ترے آس پاس ...

    مزید پڑھیے

    اک خلش اک کرب پنہاں میری خاکستر میں ہے

    اک خلش اک کرب پنہاں میری خاکستر میں ہے میرا دشمن حادثہ یہ ہے کہ میرے گھر میں ہے کون کس کے اشک پونچھے کون کس کا دکھ بٹائے جو ہے وہ محرومیوں کے گنبد بے در میں ہے ضرب تیشہ چاہئے اور دست‌ آزر چاہئے اک جہان خال و خد خوابیدہ ہر پتھر میں ہے اس زمانے میں مری سادہ دلی میرا خلوص ایک منظر ...

    مزید پڑھیے

    با ہمہ یورش آلام و ستم زندہ ہوں میں

    با ہمہ یورش آلام و ستم زندہ ہوں میں مصحف وقت کا اک باب‌ درخشندہ ہوں میں میرے سینے میں دھڑکتا ہے دل عصر رواں اس زمانے کا مفسر ہوں نمائندہ ہوں میں میں کہ حق تھا ہوا ہر دور میں مصلوب مگر کل بھی پائندہ تھا میں آج بھی پائندہ ہوں میں تو تمنائی ہے اک جنت موعودہ کا اپنی گم کی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    دل خود آشنا سوہان زندگی ہوگا

    دل خود آشنا سوہان زندگی ہوگا یہ سنگ میل ہے کل سنگ راہ بھی ہوگا ہر ایک موڑ پہ پیچھے پلٹ کے دیکھتا ہوں وہ گرد رہ سہی ہم راہ تو کوئی ہوگا ہمیں ہماری وفا دشت دشت ڈھونڈے گی تمہارے حسن کا چرچا گلی گلی ہوگا وہ میں نہیں مری آشفتگیٔ دل ہوگی وہ تو نہیں ترا انداز دلبری ہوگا بہار جلوۂ گل ...

    مزید پڑھیے

    بڑھیں گے اور بھی یوں سلسلے حجابوں کے

    بڑھیں گے اور بھی یوں سلسلے حجابوں کے کر اپنی بات حوالے نہ دے کتابوں کے میں شہر گل کا مسافر مرے شریک سفر صعوبتوں کی یہ راتیں یہ دن عذابوں کے تری نظر سے عبارت تھے تیرے ساتھ گئے وہ پھول میرے خیالوں کے رنگ خوابوں کے تمام عمر پھر اک کرب کی چتا میں جلے ہم ایک پل جو رکے شہر میں گلابوں ...

    مزید پڑھیے

    پیا جو زہر غم زیست انگبیں کی طرح

    پیا جو زہر غم زیست انگبیں کی طرح نکھر گیا ہوں کسی روئے آسماں کی طرح مرے وجود کے صحرائے شب زدہ پہ یہ کون کرن بکھیرتا رہتا ہے مہ جبیں کی طرح میں اپنی ذات میں محبوس ہو کے بیٹھ رہا بکھرتا کاش تری زلف عنبریں کی طرح ہوئی ہے خاک سے میری نمود میں بھی یہاں اسیر گردش حالات ہوں زمیں کی ...

    مزید پڑھیے

    حور و قصور سے نہ بہشت بریں سے ہے

    حور و قصور سے نہ بہشت بریں سے ہے نازاں ہوں میں کہ میرا تعلق زمیں سے ہے وقف فروغ رنگ‌ نظر اور دل بضد پیراہن حیات دریدہ کہیں سے ہے سجدوں کی ضو نہیں ہے تو زخموں کے پھول ہیں باقی کوئی تو سنگ کا رشتہ جبیں سے ہے کیا ذکر‌ بے رخی کہ یہ شیوہ ہے حسن کا شکوہ مجھے تری نگۂ اولیں سے ہے میں ...

    مزید پڑھیے

    دل ہی دل میں گھٹ کے رہ جاؤں یہ میری خو نہیں

    دل ہی دل میں گھٹ کے رہ جاؤں یہ میری خو نہیں آج اے آشوب دوراں میں نہیں یا تو نہیں سنگ کی صورت پڑا ہوں وقت کی دہلیز پر ٹھوکروں میں زندگی ہے آنکھ میں آنسو نہیں شب غنیمت تھی کہ روشن تھے امیدوں کے خطوط دن کے صحرا میں کوئی تارا کوئی جگنو نہیں چار جانب یہ سجے چہرے ہیں یا کاغذ کے ...

    مزید پڑھیے

    یوں تو ہر چھب وہ نرالی وہ فسوں ساز کہ بس

    یوں تو ہر چھب وہ نرالی وہ فسوں ساز کہ بس ہائے وہ ایک نگاہ غلط انداز کہ بس دیکھنے والو ذرا رنگ کا پردہ تو ہٹاؤ سینۂ گل پہ ہے زخموں کا وہ انداز کہ بس دل کے داغوں کو چھپایا تو ابھر آئے اور رازداری ہی نے یوں کھول دیئے راز کہ بس ہم نے بخشی ہے زمانے کو نظر اور ہمیں یوں زمانے نے کیا ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2