خاور رضوی کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں فریب خوردۂ وہم و قیاس میں بھی نہیں فضائے شہر طلب ہے انا گزیدہ بہت ادا شناس رہ التماس میں بھی نہیں میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں وہ فیصلے کی گھڑی تھی کڑی سو بیت گئی بچھڑ کے تجھ سے کچھ ...

    مزید پڑھیے

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں

    وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں فریب خوردۂ وہم و قیاس میں بھی نہیں فضائے شہر طلب ہے انا گزیدہ بہت ادا شناس رہ التماس میں بھی نہیں میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں یہ واقعہ کہ تجھے کھل رہی ہے تنہائی یہ حادثہ کہ ترے آس پاس ...

    مزید پڑھیے

    اک خلش اک کرب پنہاں میری خاکستر میں ہے

    اک خلش اک کرب پنہاں میری خاکستر میں ہے میرا دشمن حادثہ یہ ہے کہ میرے گھر میں ہے کون کس کے اشک پونچھے کون کس کا دکھ بٹائے جو ہے وہ محرومیوں کے گنبد بے در میں ہے ضرب تیشہ چاہئے اور دست‌ آزر چاہئے اک جہان خال و خد خوابیدہ ہر پتھر میں ہے اس زمانے میں مری سادہ دلی میرا خلوص ایک منظر ...

    مزید پڑھیے

    با ہمہ یورش آلام و ستم زندہ ہوں میں

    با ہمہ یورش آلام و ستم زندہ ہوں میں مصحف وقت کا اک باب‌ درخشندہ ہوں میں میرے سینے میں دھڑکتا ہے دل عصر رواں اس زمانے کا مفسر ہوں نمائندہ ہوں میں میں کہ حق تھا ہوا ہر دور میں مصلوب مگر کل بھی پائندہ تھا میں آج بھی پائندہ ہوں میں تو تمنائی ہے اک جنت موعودہ کا اپنی گم کی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    دل خود آشنا سوہان زندگی ہوگا

    دل خود آشنا سوہان زندگی ہوگا یہ سنگ میل ہے کل سنگ راہ بھی ہوگا ہر ایک موڑ پہ پیچھے پلٹ کے دیکھتا ہوں وہ گرد رہ سہی ہم راہ تو کوئی ہوگا ہمیں ہماری وفا دشت دشت ڈھونڈے گی تمہارے حسن کا چرچا گلی گلی ہوگا وہ میں نہیں مری آشفتگیٔ دل ہوگی وہ تو نہیں ترا انداز دلبری ہوگا بہار جلوۂ گل ...

    مزید پڑھیے

تمام