خاور رضوی کی غزل

    جتنا برہم وقت تھا اتنے ہی خود سر ہم بھی تھے

    جتنا برہم وقت تھا اتنے ہی خود سر ہم بھی تھے موج طوفاں تھا اگر پل پل تو پتھر ہم بھی تھے کاش کوئی اک اچٹتی سی نظر ہی ڈالتا چور تھے زخموں سے لیکن ایک منظر ہم بھی تھے گر وبال دوش تھا سر ہاتھ میں تیشہ بھی تھا اک طرف سے تو نصیبے کے سکندر ہم بھی تھے خود شناسی کا بھلا ہو راکھ کی چٹکی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    گرتے شیش محل دیکھو گے

    گرتے شیش محل دیکھو گے آج نہیں تو کل دیکھو گے اس دنیا میں نیا تماشا ہر ساعت ہر پل دیکھو گے کس کس تربت پر روؤ گے کس کس کا مقتل دیکھو گے دیر ہے پہلی بوند کی ساری پھر ہر سو جل تھل دیکھو گے ہر ہر زخم شجر سے خاورؔ پھوٹتی اک کونپل دیکھو گے

    مزید پڑھیے

    خوابوں کی طلسماتی گپھاؤں سے نکل کے

    خوابوں کی طلسماتی گپھاؤں سے نکل کے دیکھو کبھی ویرانۂ جاں آنکھ کو مل کے ہر لمحہ ہے اک آئنۂ عمر گذشتہ پیشانیٔ امروز پہ بھی زخم ہیں کل کے طے ہو نہ سکا مرحلۂ دشت تمنا دیوار بنی پاؤں کی زنجیر پگھل کے اک روز تو یہ دل کی تڑپ لب پہ بھی آئے اک روز تو یہ ساغر لبریز بھی چھلکے دیکھا جو ...

    مزید پڑھیے

    ہے قتل گہہ شوق میں خنجر ہمہ تن چشم

    ہے قتل گہہ شوق میں خنجر ہمہ تن چشم منظر ہمہ تن گل گل منظر ہمہ تن چشم ہے کون جو آشفتہ مزاجی کی رکھے لاج اس کوئے ملامت کے ہیں پتھر ہمہ تن چشم کب آئے گا انصاف کا دن داور محشر اک عمر سے میں ہوں سر محشر ہمہ تن چشم یہ صبح تو وہ صبح نہیں جس کی طلب میں تارے سر مژگاں رہے شب بھر ہمہ تن ...

    مزید پڑھیے

    تھے دامن حیات پہ اک داغ ہم، گئے

    تھے دامن حیات پہ اک داغ ہم، گئے لیکن یہ کیا ہوا تری زلفوں کے خم گئے اک احتجاج سے ہیں عبارت حیات و موت روتے ہوئے جو آئے تو با چشم نم گئے طے کر سکا نہ وسعت دشت وفا کوئی دعوے جنہیں بہت تھے قدم‌‌ دو قدم گئے کچھ دیر کھیلتے رہے موج بلا سے ہم کچھ دور ساتھ ساتھ وجود و عدم گئے ٹھہرے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2