پیا جو زہر غم زیست انگبیں کی طرح

پیا جو زہر غم زیست انگبیں کی طرح
نکھر گیا ہوں کسی روئے آسماں کی طرح


مرے وجود کے صحرائے شب زدہ پہ یہ کون
کرن بکھیرتا رہتا ہے مہ جبیں کی طرح


میں اپنی ذات میں محبوس ہو کے بیٹھ رہا
بکھرتا کاش تری زلف عنبریں کی طرح


ہوئی ہے خاک سے میری نمود میں بھی یہاں
اسیر گردش حالات ہوں زمیں کی طرح


میں اپنے ظاہر و باطن میں ایک جیسا ہوں
فراخ دل بھی ہے میرا مری جبیں کی طرح


میں غم کی آگ میں خاور نہ جل کے راکھ ہوا
وگرنہ میں بھی چمکتا کسی نگیں کی طرح