Khalish Qadiri

خلش قادری

  • 1935 - 2000

خلش قادری کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    عمر یوں ہی تمام کر جاؤں

    عمر یوں ہی تمام کر جاؤں تیرے گھر آؤں تیرے گھر جاؤں خود کو بیگانہ تجھ سے کر جاؤں موت سے پہلے کیسے مر جاؤں تابکے میں دھواں دھواں سا رہوں جل بجھوں خود کو راکھ کر جاؤں زندہ رہنے کی جب ضرورت ہے زندگی چاہتی ہے مر جاؤں خواب بن جاؤں تیری آنکھوں کا شب کو آؤں دم سحر جاؤں

    مزید پڑھیے

    خوش شناسی کا بھرم ٹوٹا نہ تھا

    خوش شناسی کا بھرم ٹوٹا نہ تھا آئنے میں منہ کبھی دیکھا نہ تھا میرے گھر چاندی نہ تھی سونا نہ تھا میں کبھی آرام سے سویا نہ تھا ہر کوئی تھا شہر میں خنجر بہ دست اور قاتل سا کوئی چہرہ نہ تھا گفتگو الزام خاموشی عذاب حادثہ ایسا کبھی دیکھا نہ تھا دل میں اک ذوق تجسس تھا خلشؔ سامنے منزل ...

    مزید پڑھیے

    گھر میں مہمان کوئی آج بلا کر دیکھوں

    گھر میں مہمان کوئی آج بلا کر دیکھوں در و دیوار کو آئینہ بنا کر دیکھوں بے حسی درد کے بستر پہ تڑپتی رہ جائے کب سے خوابیدہ ہوں میں خود کو جگا کر دیکھوں چین لینے دے اگر شورش انفاس مجھے خود کو آواز دوں اس کو بھی بلا کر دیکھوں کون سا چہرہ مرے کام یہاں آئے گا منتخب کر لوں تو اک چہرہ لگا ...

    مزید پڑھیے