خوش شناسی کا بھرم ٹوٹا نہ تھا

خوش شناسی کا بھرم ٹوٹا نہ تھا
آئنے میں منہ کبھی دیکھا نہ تھا


میرے گھر چاندی نہ تھی سونا نہ تھا
میں کبھی آرام سے سویا نہ تھا


ہر کوئی تھا شہر میں خنجر بہ دست
اور قاتل سا کوئی چہرہ نہ تھا


گفتگو الزام خاموشی عذاب
حادثہ ایسا کبھی دیکھا نہ تھا


دل میں اک ذوق تجسس تھا خلشؔ
سامنے منزل نہ تھی جادہ نہ تھا