عمر یوں ہی تمام کر جاؤں
عمر یوں ہی تمام کر جاؤں
تیرے گھر آؤں تیرے گھر جاؤں
خود کو بیگانہ تجھ سے کر جاؤں
موت سے پہلے کیسے مر جاؤں
تابکے میں دھواں دھواں سا رہوں
جل بجھوں خود کو راکھ کر جاؤں
زندہ رہنے کی جب ضرورت ہے
زندگی چاہتی ہے مر جاؤں
خواب بن جاؤں تیری آنکھوں کا
شب کو آؤں دم سحر جاؤں