گھر میں مہمان کوئی آج بلا کر دیکھوں

گھر میں مہمان کوئی آج بلا کر دیکھوں
در و دیوار کو آئینہ بنا کر دیکھوں


بے حسی درد کے بستر پہ تڑپتی رہ جائے
کب سے خوابیدہ ہوں میں خود کو جگا کر دیکھوں


چین لینے دے اگر شورش انفاس مجھے
خود کو آواز دوں اس کو بھی بلا کر دیکھوں


کون سا چہرہ مرے کام یہاں آئے گا
منتخب کر لوں تو اک چہرہ لگا کر دیکھوں


شدت گرمیٔ احساس کی پیمائش کیا
کوئی پیکر ہو تو میں ہاتھ لگا کر دیکھوں